تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 777 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 777

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 1987ء ان کو یاد کیا جائے گا۔اپنے زمانے کے بہترین تھے۔احمدی ہوئے ، نہ میوزک کی پرواہ کی ، نہ میوزک سے آنے والی دولت کی طرف لالچ کی نظر سے دیکھا۔سب کچھ یک دفعه، یک قلم منقطع کر دیا۔وہ درویشانہ اپنی زندگی گزارتے ہیں، باقاعدگی سے تہجد پڑھتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیتے ہیں تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ویسا عشق ہے، جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنے آقا سے عشق تھا۔رنگ بدلے ہوئے ہیں ، کیفیت ہی اور ہو چکی ہے۔اور لوگ ان کو دیکھتے ہیں، ان کو پتا نہیں کہ ان کے بھیس میں کیا وجود پھر رہا ہے۔میں نے ان سے با رہا، مدت سے میں جب واقف ہوں، ان سے بار بابا تیں کی ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی دعاؤں کو سنتا، ان کو جواب دیتا، ان سے رحمت اور شفقت کا اظہار فرماتا ہے۔آپ کو کیا پتا کہ کتنے کتنے عظیم الشان جو ہر قابل یہاں موجود ہیں۔اور اگر ہم نے نعوذ باللہ من ذالک ان کی قدر نہ کی تو خدا ہماری قدر نہیں کرے گا، ہماری ذرہ بھر پر واہ نہیں کرے گا۔اس لئے اپنی کیفیت بدلیں ، اپنے حالات تبدیل کریں اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے، جن کا میں ذکر کر رہا ہوں، جو احمد یوں کا اپنی حالت بدل کر مجھے بھی بے انتہا پیارے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ خدا کو بہت پیارے ہیں، ورنہ مجھے بھی پیارے نہ ہوتے۔ان کو میرا یہ پیغام ہے کہ آپ اسلام سے عظمت کردار حاصل کریں، استغنا حاصل کریں۔آپ کو بھی اسلام ایک خاص اسلوب زندگی سکھاتا ہے۔اسلام آپ کو بتاتا ہے کہ آپ آزاد ہو گئے ہیں، ہر قسم کے Complexes ، ہر قسم کے احساسات کمتری سے۔جب آپ نے خدا کو پایا، یہ سمجھ کرکہ خدا کو پایا تو پھر احساس کمتری کی گنجائش ہی کون ہی باقی رہ جاتی ہے۔پھر کیوں آپ حساس ہو جاتے ہیں اس بات پہ کہ فلاں نے مجھے یوں دیکھا اور فلاں نے مجھے یوں نہیں دیکھا؟“ وو اگر کوئی آپ سے ایسا سلوک کرتا ہے تو آپ ان پر رحم کریں، نہ کہ اس کے رد عمل کے نتیجے میں آپ کہیں کہ یہ ہم سے ایسا سلوک کرتا ہے، ہم بھی ہم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔اپنے خدا سے پیچھے ہیں گے، اپنی بھلائی سے پیچھے ہٹیں گے ، خود اپنے سے بے وفائی کریں گے۔کیوں یہ نہیں سمجھتے کہ اسلام آپ کا ہے اور خدا آپ کا ہے۔اگر کوئی باہر سے آنے والا اس خدا اور اسلام سے برگشتہ ہو رہا ہے، اپنے اخلاق اور اپنی قدروں میں۔تو آپ کو کیا حق ہے یا کیسی عقل ہے کہ آپ خود برگشتہ ہونے لگیں۔آپ کو یہ احساس پیدا ہونا چاہئے، اللہ آپ کا ہو چکا ہے۔آپ کو کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہئے ، کون کس طرح آپ کو دیکھتا ہے؟ اور یہ عظمت آپ کے اندر پیدا ہو گئی ، تب آپ اس ملک میں غالب آئیں گے۔777