تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 760
خطبه جمعه فرموده 109اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد هفتم طرف میں آج آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔خدا ان لوگوں سے، جو اسے سب سے زیادہ پیارے ہوں اور پھر ان لوگوں سے جو بنی نوع انسان کے لئے سب سے زیادہ پیارے وجود بننے والے ہوں، جو بنیادی صلاحیتیں رکھتے ہوں کہ بنی نوع انسان کے آئندہ سب سے زیادہ محبوب بننے والے ہوں، ان سے یہ سلوک کیوں ہونے دیتا ہے؟ ایک حکمت اس کی یہ ہے کہ دعوے پر کھے جاتے ہیں اور آزمائش کی چکی میں سے گزر کہ دعوؤں کی حقیقت روشن ہوا کرتی ہے۔بے شمار انسان ہیں، جو کسی اور انسان سے تعلق کا دعویٰ کرتے ہیں۔اگر اس دعوئی کو پر کھا نہ جائے تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ کون اپنے دعوے میں سچا ہے اور کون اپنے دعوے میں جھوٹا ہے اور فرضی دعوے کر رہا ہے۔آپ ایک دوست سے دوستی کا تعلق رکھتے ہیں، وہ آپ پر جان نچھاور کرنے کی باتیں کرتا ہے، آپ اس پر جان نچھاور کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔لیکن ایک وقت آپ کو اچانک کوئی مشکل پیش آجاتی ہے، آپ اس کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، وہ بہانے بنا دیتا ہے اور کئی قسم کے عذر پیش کرتا ہے۔اس وقت آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے دعوے فرضی تھے۔اور یہ آزمائش روز مرہ کی زندگی میں چلتی چلی جارہی ہے۔مشکل کے وقت باپ کو اپنی اولاد کی محبت کا پتا چلتا ہے، مشکل کے وقت اولاد کو اپنے ماں باپ کی محبت کا پتا چلتا ہے، دوستوں کی دوستی پر کبھی جاتی ہے، محبت کرنے والوں کی محبت کے دعوے پر کھے جاتے ہیں۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ جتنا امتحان شدید ہوتا چلا جائے، اتنا ہی زیادہ کسی دعوے کی صداقت نمایاں طور پر کھل کر اور روشن طریق پر ظاہر ہوتی ہے۔اور یہ بھی ایک امر واقعہ ہے کہ کلیہ ہر حالت میں کسی کا ہورہنے کا دعوئی، یہ ایک محض فرضی دعوئی ہے، انسان میں یہ طاقت نہیں ہے۔آزمائش اگر بہت بڑھ جائے تو پھر انسان ہر دوسرے کو چھوڑتا چلا جاتا ہے۔اور یہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے کہ آخر پر صرف نفس باقی رہ جاتا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ کونسی ایسی آزمائش ہے، جس کے اندر یہ امتحان مکمل ہو جائے۔بظاہر ایک باپ بعض دفعہ اپنی بیٹی کے لئے جان قربان کر دیتا ہے اور آپ کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو، اس نے تو اپنا نفس قربان کر دیا۔لیکن قرآن کریم اس مضمون کو ایک اور رنگ میں پیش فرماتا ہے۔کہتا ہے، بعض ابتلاء ایسے خطرناک ہوتے ہیں کہ کوئی جان کسی دوسری جان کے لئے قربانی کے لئے تیار نہیں رہتی۔جتنے ابتلاء بڑھتے چلے جاتے ہیں، جتنی تکلیف کی شدت اونچی ہوتی چلی جاتی ہے، اتنا ہی اس امر کی چھان بین ہوتی چلی جاتی ہے۔یوں کہنا چاہئے کہ نکھر کر یہ معاملہ سامنے آتا چلا جاتا ہے کہ کس حد تک کوئی کس سے پیار کرتا تھا، کس حد تک کوئی کسی سے محبت رکھتا تھا اور قربانی کے لئے تیار تھا۔چنانچہ اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا، جب بنی نوع انسان خدا کی پکڑ کے نیچے ہوں گے۔وہ ایسا سخت دن ہوگا کہ کوئی ماں اپنے بچے کے لئے قربانی 760