تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 753 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 753

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02اکتوبر 1987ء فیصلہ فرما، اب میں کیا کروں؟ باہر سے آکر لوگ آپ کا بوجھ نہیں اٹھا ئیں گے۔اس کے باوجود ہم توقع کریں گے کہ آپ کے اندر بہت سی مخفی طاقتیں تھیں، جن کو آپ نے کبھی استعمال نہیں کیا۔اور وہ بوجھ ، جو خدا اٹھانے کی توفیق دیتا ہے، ان بوجھوں کے ساتھ لذت عطا کیا کرتا ہے، ان بوجھوں کے ساتھ تھکاوٹ اور درماندگی عطا نہیں کیا کرتا۔ایک فرحت عطا کرتا ہے، جس کی کوئی مثال دنیا میں اور نہیں۔اس لئے یہی وہ ایک راہ ہے، جس راہ سے آپ اپنی حالت بدل سکتے ہیں۔اور جب تک آپ اپنی حالت نہ بدلیں ، اس ملک کی حالت نہیں بدل سکتے۔اور ایک لازمی قانون دوسرا بھی ہے۔اگر آپ نے اپنی حالت نہ بدلی ، اس حد تک کہ اس ملک کی حالت بدل سکیں تو یہ ملک آپ کی حالت بدل دے گا۔آپ اس حال پر نہیں رہ سکیں گے، اس نعمت پر قائم نہیں رہ سکیں گے، جس نعمت کے ساتھ آپ یہاں پہنچے تھے یا جس نعمت کے ساتھ آپ نے کہیں بھی سفر کا آغاز کیا تھا۔وو۔۔۔جب خدا یہ فیصلہ کرتا ہے تو اس قوم کو برائی پہنچنے سے دنیا کی کوئی طاقت بچا نہیں سکتی۔اور خدا کے سوا کوئی نہیں ہے، جو اس کے بدنتائج سے کبھی ان کو محفوظ رکھ سکے۔تو خدا کو دو شانوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ایک وہ شان جو ہر لحظہ محافظ کی شان ہے، ہر لحظہ حفاظت کرنے والے کی شان ہے ، سوئے ہوؤں کی بھی حفاظت کرنے والا اور جاگے ہوؤں کی بھی حفاظت کرنے والا، بیٹھ رہنے والوں کی بھی حفاظت کرنے والا ، چلنے والوں کی بھی حفاظت کرنے والا۔فرمایا: تمہارے اپنے اختیار میں ہے، تم چاہو تو اس ذات سے تعلق قائم کر لو۔لیکن یا درکھو، ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔اگر یہ تم نے نہ کیا تو پھر خدا ایک اور شان اور ایک اور جلال کی شان سے ظاہر ہونا بھی جانتا ہے۔جب وہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ میرے بعض بندے میری نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اور ان کے اہل نہیں رہے تو پھر خدا جس برائی کا فیصلہ کرتا ہے، پھر کوئی دنیا کی طاقت اسے بچا نہیں سکتی۔ایک طرف خدا کے محافظ ہیں، جو ہر طاقت کے مقابل پر ایک کامیاب حفاظت کرتے ہیں۔ایک طرف دنیا کے محافظ ہیں، جو سارے مل کر بھی زور لگا ئیں تو خدا کی تقدیر کے مقابل پر کسی بندے کو برائی سے بچا نہیں سکتے۔کتنی کھلی کھلی دور ہیں ہیں، کتنی صاف ہیں، ان کی منفعتیں اور ان کے نقصانات کتنی واضح زبان میں کھول دیئے گئے ہیں۔اس لئے ظاہر ہے کہ ہر احمدی کا فیصلہ ایک ہی ہوگا۔اس راہ کو قبول کر چکا ہے، اسی راہ پر قائم رہنا چاہے، جو خدا کی حفاظت کی راہ ہے۔جس کے نظارے وہ بار ہا اپنی زندگیوں میں دیکھ چکا ہے، جس کی لذتوں سے آشنا ہو چکا ہے۔خدا کرے کہ ہم میں سے ہر ایک اس راہ پر ہی قدم بڑھا تا ر ہے اور جو غفلت کی 753