تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 741
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہی خصوصی پیغام جماعت احمدیہکا ہر فرد تبلیغ واشاعت دین کو اپنی زندگی کا مقصد و نصب العین بنائے حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی پیغام اسلام چونکہ ایک تبلیغی مذہب ہے، اس لئے ہر مسلمان کا یہ فرض اولیں ہے کہ وہ حتی الامکان تبلیغ واشاعت دین میں کوشاں ہو۔اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے قیام کا بنیادی مقصد ہی یہ بیان فرمایا ہے کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (آل عمران: 111) یعنی تم وہ خیر امت ہو، جو نوع انسان کی ہمدردی اور خیر خواہی کے لئے پیدا کی گئی ہے۔تمہیں چاہیے کہ ہر آن لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے رہو اور بدی سے منع کرتے رہو۔تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمانوں میں اپنے اس فرض منصبی کا احساس رہا، فتح و کامیابی ان کے قدم چومتی رہی۔مگر جیسے ہی تبلیغ و اشاعت دین کا یہ جذبہ اور تڑپ مفقود ہونا شروع ہوئی ناکامی و نامرادی ان کا مقدر بنتی چلی گئی۔تا آنکہ اسلام کا سرسبز و شاداب چمن اپنی تمام رونق کھو بیٹھا۔امت مسلمہ کے خزاں دیدہ چمن پر سینکڑوں سال کا طویل زمانہ گزرنے کے بعد آج ہم پھر اس مبارک و مسعود دور میں داخل ہو چکے ہیں، جو فرمان الہی لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (الفتح: 39) کے مطابق اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا دور ہے۔فی زماننا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت مبارکہ کا مقصد بھی یہی ہے کہ دین اسلام کو اس دائگی اور عالمگیر روحانی غلبہ سے ہمکنار کیا جائے ، جس کی الہی نوشتوں میں پہلے سے بشارت دی جاچکی ہے۔غلبہ اسلام کی ان موعودہ ساعتوں کو قریب سے قریب تر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ کاہر فر تبلیغ واشاعت دین کو اپنی زندگی کا مقصد ونصب العین بنائے۔خصوصاً آج کے مخدوش اور نا مساعد حالات میں جبکہ علماء سوء اپنے اس فرض منصبی کو یکسر فراموش کر کے غیروں کو حلقہ بگوش اسلام کرنے کی بجائے اپنوں ہی کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کے درپے ہیں، ہماری یہ ذمہ داری پہلے سے دو چند ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی بیش از بیش تو فیق عطا فرمائے۔آمین۔( مطبوعہ ہفت روزہ النصر 04 ستمبر 1987ء) 741