تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 711
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرمود ه 14 اگست 1987ء عہدیداران کمزور اور خاموش بیٹھ رہنے والوں کو خدمت دین میں لگائیں خطبه جمعه فرموده 14 اگست 1987ء مختلف وقتوں میں مختلف منتظمین کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، دراصل ان کے انتظام کی صلاحیت نمایاں طور پر اجاگر ہو کر اس وقت ابھرتی ہے، جب وہ مشکلات کے دور میں سے گزر رہے ہوں اور شدید مخالفت کا سامنا ہو۔یہاں تک کہ یہ خطرہ ہو کہ اگر مستعدی کے ساتھ حالات کا مقابلہ نہ کیا گیا تو قوم شاید صفحہ ہستی سے مٹادی جائے۔ایسے حالات بھی قوموں پر آتے ہیں۔جہاں تک الہی جماعتوں کا تعلق ہے، خدا کا وعدہ ہے کہ دشمن کو ہرگز توفیق نہیں ملے گی کہ وہ انہیں صفحہ ہستی سے مٹادے، اس لئے اس خطرے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جہاں تک ذمہ دار منتظمین کا تعلق ہے، ان کے پھر مختلف قسم کے حالات ہیں۔دو گروہ خاص طور پر ایسے ہیں، جن کا اس پہلی آیت کریمہ میں ذکر ہے اور جن کے متعلق میں جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ہمارے امراء اور پریذیڈنٹ صاحبان اور دیگر عہدیداران کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ مومنوں کے پہلے دو درجات، جن کو صف اول اور صف دوئم کے درجے کے مومن قرار دیا جا سکتا ہے، ان کا اس آیت میں ذکر ہے۔ایک وہ ہیں، جو ہر حال میں، ہر مشکل کے وقت بہر حال سابقون میں شامل رہتے ہیں اور خدا کی خاطر ہر مصیبت کے دور میں بھی خدمت دین سے پیچھے نہیں ہٹتے۔بہت سے امراء اور عہدیداران ہیں، جو ان کے حال پر نظر رکھ کر راضی ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ جو خدمت دین ادا کر رہے ہیں، بس یہی کافی ہیں۔حالانکہ ایک اور طبقہ بھی ہے، جس کا اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے۔اور وہ ہے، بیٹھ رہنے والوں کا۔دوسرا طبقہ جو ایمان کے لحاظ سے زخمی نہیں ہوتے ، حقیقی مومنوں کے ساتھ ہی ہیں اور ان سے بھی خدا تعالیٰ حسن سلوک فرمائے گا۔لیکن وہ ایسا طبقہ ہے، جو ملا عظیم قومی جہاد میں شامل نہیں ہے۔ایسے لوگ بہت سے ایسے منتظمین ہیں، چند نہیں بلکہ بہت سے ایسے منتظمین ہیں، جہاں تک میں نے دنیا کی جماعتوں کا جائزہ لیا ہے، میرا خیال ہے بدقسمتی سے اکثریت ہمارے منتظمین کی ایسی ہے، جو اس دوسرے طبقے کو نظر انداز کر دیتی ہے اور ان پر کام نہیں کرتی۔نتیجہ ان کی جماعتوں کی حالت یکساں ہی رہتی ہے۔یعنی مقامی کوششوں کے نتیجے 711