تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 657
خلاصہ خطاب فرموده یکم اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک گیمبیا کے متعلق ہی یہاں کے مربی انچارج لکھتے ہیں کہ دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ ایک گونگا احمدی ہو گیا۔اور وہ گونگا ایسا تھا کہ وہ پڑھ لکھ سکتا تھا لیکن ویسے نہ وہ سن سکتا تھا اور نہ بات کر سکتا تھا۔آج کل نئے طریقے ایسے ہیں کہ گونگوں کو پڑھنا لکھنا آجاتا ہے۔تو اس کو یہ ترکیب سوجھی کہ ایک دوسرے گاؤں میں اس کا ایک گونگا دوست تھا ، اس کو بھی پڑھنا لکھنا آتا تھا۔اس نے اس کو خط و کتابت کے ذریعے دعوت الی اللہ شروع کر دی۔اور اس طرح سے اس دوسرے گونگے کو بھی احمدی کر لیا۔اور اب یہ دوسرے گونگوں کو دعوت الی اللہ کے لئے ڈھونڈ رہے ہیں۔حضور نے نئے آنے والوں کے جذبہ قربانی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔وو ” یہ نئے آنے والے قربانیاں بھی بہت کرتے ہیں۔یہ نہ سمجھیں کہ دین کے نام پر مظالم صرف پاکستان کا ہی حصہ ہے۔یہ جماعت کی تقدیر ہے اور تمام انبیاء کی جماعتوں کی تقدیر ہے۔جب سے دنیا بنی ہے، ایک سچے نبی کی مثال آپ پیش نہیں کر سکتے، جس کی جماعت کو خدا کے نام پر ظلموں کا نشانہ نہ بنایا گیا ہو۔اس لئے اس غلط تصور کو دور کریں کہ صرف ایک ہی ملک ہے، جس کے سر یہ سہرا ہے کہ مذہب کے نام پر ظلم ہو رہا ہے۔جہاں جہاں بھی جماعتیں پھیلتی ہیں، وہاں سے جور پور میں ملتی ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساتھ وہاں جماعت کی مخالفت کے باوجود استقامت کی توفیق ملتی ہے۔جو فرق ہے، اس کو لوظ رکھیں کہ اکثر جگہ حکومتیں شامل نہیں ہیں۔پاکستان میں عوام شامل نہیں ہیں، حکومت شامل ہے۔اور کوشش کر کے، اخراجات مہیا کر کے باقاعدہ پیشہ ور مخالفت کروائی جارہی ہے۔اور حکومت کے قوانین اس میں مرد ہیں۔جہاں تک تقدیر عام کا تعلق ہے، جماعت احمد یہ اس کے لئے تیار ہے۔ہمیں وہاں یہ شکوہ نہیں ہے کہ جماعت کی مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟ ہم نے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ مخالفتیں قبول کرنے کا رستہ ہے۔مخالفتوں کا مقابلہ کرنے کا رستہ ہے۔لیکن وہاں ظلم یہ ہے کہ حکومت کا کام نہیں تھا، حکومت کو زیب نہیں دیتا کر وہ مذہبی مخالفتوں میں حصہ دار بنے۔چنانچہ باقی جگہوں پر بھی مخالفتیں ہو رہی ہیں اور خدا کے فضل سے نو احمدیوں کو بڑی استقامت کی توفیق مل رہی ہے۔ایک مثال انہوں نے دی ہے کہ ایک ماں کا عیسائی بیٹا تھا، جس سے ماں کو بڑا پیار تھا۔لیکن عیسائیت سے اس سے بھی زیادہ پیار تھا۔چنانچہ جب وہ احمدی ہوا تو اس ماں نے اپنے بیٹے کی شدید مخالفت شروع کر دی۔پہلے تو وہ برداشت کرتا رہا لیکن جب اس کی ماں نے قرآن کی بے عزتی کی تو وہ گھر چھوڑ کر باہر نکل گیا اور پھر دوبارہ اس گھر میں نہیں گیا۔اور باہر جا کر دعوت الی اللہ کے ذریعے اس نے پانچ نئے عیسائیوں کو احمدیت میں داخل کرنے کی توفیق پائی۔657