تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 536
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 06 فروری 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم پائی؟ ان لوگوں کا کیا بنا؟ اس کا ہمیں علم نہیں ہے۔بعض جگہوں پر پاکستان سے جاکے بسنے والے بھی موجود ہیں مگر مقامی نہیں تھے۔تو اللہ تعالیٰ نے اس نئے سال میں یہ پہلا فضل نازل فرمایا کہ برازیل میں پہلی دفعہ مقامی دوستوں میں سے جو عیسائی تھے، ان میں خدا تعالیٰ نے احمدیت میں داخل ہونے والے پھل عطا فرما دیئے۔اور ایک خاتون ، جو بہت تعلیم یافتہ ہیں، ان کے بعد بعض نوجوان بھی خدا کے فضل سے اسلام اور احمدیت میں داخل ہوئے اور اب وہاں امید بندھی ہے کہ انشاء اللہ مقامی طور پر ایک تحریک پرورش پائے گی۔لیکن یہ ایک ہی ملک ہے، صرف ابھی تک۔اور میں سمجھتا ہوں کہ انگلی صدی سے پہلے اگر چہ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے لیکن کام تو اللہ نے کرنے ہیں، اگر دعا اور خلوص اور ہمت لے کر ہم کوشش کریں تو بعید نہیں کہ اس بر اعظم کے ہر ملک میں مقامی طور پر پودا لگا دے۔میہ وہ خیال ہے، جس کے متعلق میں سوچتا رہاتو میرے ذہن میں یہ تجویز ابھری ہے کہ تحریک جدید کی طرف سے وکیل اعلیٰ، جو آج کل یہاں آئے ہوئے ہیں، وہ منصوبہ بندی کمیٹی کے مشورے کے ساتھ بعض ممالک ایک سے زیادہ ملکوں کو بے شک تقسیم کریں۔لیکن یہاں پندرہ دن والے وقف کی سکیم کام نہیں کر سکتی۔چھ مہینے یا سال کے یا چھ چھ مہینے اور سال سال کے وقف کی تحریک زیادہ مؤثر ثابت ہو گی۔اور اس ضمن میں ایک بالکل نئی طرز پہ کام کرنا پڑے گا۔عام جو طریق ہے عارضی وقف کا اس کے اوپر یہ کام نہیں ہو سکتا۔ایسے ممالک جن کے سپر دوہ جگہ ہو ، وہ تلاش کریں، ایسے ریٹائر ڈ آدمی یا ایسے کام کرنے والے جو لمبی چھٹی لے سکتے ہوں اور اگر ان کو توفیق نہ ہو تو سارا ملک ان کے لئے اخراجات مہیا کرے اور ان سے کہیں کہ فرض کفایہ ادا کرو، ہم سب کی طرف سے اور ویزوں کا بھی خود انتظام کرو۔لٹریچر اور راہنمائی کا جہاں تک تعلق ہے ، وہ تحریک جدید سے وہ حاصل کریں۔اور کہاں جا کہ بیٹھنا ہے، یہ بھی تحریک جدید ہی ان کی راہنمائی کرے۔اور پھر جا کے وہاں بیٹھ جائیں، دھونی رمائیں ان درویشوں کی طرح جو پہلے بھی خدا کی راہ میں نکل کے ملک فتح کرتے رہے ہیں۔تو وہاں جا کے اپنا اور اپنے ملک کا نام ہمیشہ کے لئے ثبت کر دیں۔دنیا کی قوموں سے تو ہمارا مقابلہ نہیں ہو سکتا مادی ترقیات میں لیکن خدا نے جس میدان کی چوٹیاں فتح کرنے کے لئے ہمیں پیدا کیا ہے، وہ بلند تر چوٹیاں ہیں اور بہت ہی عظیم الشان چوٹیاں ہیں۔ہمالہ فتح کرنے والوں کے نام تو ضرور ثبت ہوئے وہاں لیکن آئندہ نسلیں، جس شان کے ساتھ ان لوگوں کو یاد کریں گی ، جنہوں نے خدا کی راہ میں ممالک فتح کئے ہیں، ان کی شان کا وہ ہمالہ کی چوٹیاں فتح کرنے والا تو مقابلہ نہیں کر سکتا۔آج اس کی زیادہ عزت ہے، آج وہ زیادہ معروف ہے دنیا میں، آج اس کا نام دنیا کے ریڈیو، ٹیلی ویژن پر زیادہ احترام سے لیا جاتا ہے۔مگر لاز م وہ وقت آئے گا، جبکہ ارب ہا ارب دنیا کے 536