تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 505
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد؟ خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 1987ء بدظنی۔اپنے نفس پر بھی حسن ظن کریں اور خدا پر تو حسن ظن مومن کا ہوتا ہی ہے۔اور بظاہر جو بات مشکل دکھائی دیتی ہے، ارادہ کریں کہ ہم نے اس کو پورا کر کے دکھانا ہے۔تو اس طرح اگر اس سال کے آخر تک بقیہ رقمیں پوری ہو جا ئیں تو امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ پھر باقی جو کام ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ خود بخود چلتے رہیں گے۔کیونکہ فکریں کام کے معاملے میں اتنی زیادہ ہیں کہ وصولی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ یہ بھی فکر بن کر ساتھ ساتھ انسان کو پریشان کرتی رہے۔جو کام ہونے والے ہیں، وہ ہی بہت زیادہ ہیں۔اتنا وقت ہی نہیں ملنا، توجہ دینے کا کہ اب یہ بھی فکر کریں کہ وصولی کہاں سے ہوگی؟ اس لئے جماعت کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ کرتا ہوں۔اس ضمن میں ایک اور ضروری بات بھی بتانے والی ہے کہ ہر قسم کے لوگ اپنے کاموں میں، اپنے کاموں کو پورا کر کے دکھانے میں مختلف چالاکیاں کرتے رہتے ہیں۔ان کو ہم بد دیانتیاں نہیں کہہ سکتے، ہوشیاریاں ہیں اور بعض جماعتوں کے سیکرٹری بھی یہ ہوشیاریاں کرتے رہتے ہیں۔مثلاً وعدہ اگر دس لاکھ کا ہے تو جن لوگوں نے دس لاکھ کا وعدہ کیا تھا، انہوں نے اگر سات لاکھ ہی ادا کیا ہو اور اس عرصے میں تین لاکھ کے وعدہ کرنے والے اور پورا کرنے والے مزید پیدا ہو چکے ہوں تو واقعہ ان کو یہ بتانا چاہئے کہ ہمارا دس لاکھ کا وعدہ پورا نہیں ہوا، سات لاکھ اس میں سے ادا شدہ ہے اور بقیہ ہمارے ذمہ ہے۔اور یہ تین لاکھ اللہ تعالیٰ نے زائد عطا فرمایا ہے۔لیکن وہ چالا کی یہ کرتے ہیں کہ جب دس لاکھ کی رقم پوری ہوئی کہہ دیا کہ وعدہ پورا ہو گیا ، حالانکہ نہیں ہوا۔وعدہ ان لوگوں کا ہے، جنہوں نے کیا تھا۔اس کے مجموعے کا نام ہے، وہ وعدہ، جو پہلے آیا ہے۔بعد میں خدا تعالی دو طریقے سے اس وعدے کو بڑھا تا رہتا ہے اور ان کو یہ اطلاع کرنی چاہئے تھی ، شروع میں کہ اب ہمارا وعدہ دس نہیں رہا، گیارہ ہو گیا، بارہ ہو گیا، تیرہ ہو گیا۔چونکہ خدا وعدوں کو بڑھاتا رہتا ہے اور وہ بڑھائے ہوئے وعدے یہ سیکرٹری جان بوجھ کے شمار نہیں کرتے تاکہ مشکل نہ پڑ جائے ، بعد میں۔اس لئے بظا ہر وعدے پورے ہور ہے ہوتے ہیں لیکن عملا نہیں ہورہے ہوتے۔ہر جگہ لوگوں کی یہی عادت ہے۔ہمیں پتہ ہے زمیندارے کا کہ وہاں مثال کے طور پر اگر سو ایکڑ فصل کاشت ہوئی ہے اور بجٹ میں اسی تھی کہ اسی ایکٹر کاشت ہوگی تو مینیجر صاحبان حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ بقیہ ہیں کا پتہ نہ چلے۔تا کہ وہ جو Average اوسط پیداوار انہوں نے بتائی ہے کہ ہم نے کرنی ہے اس دفعہ ، وہ پوری ہو جائے۔یعنی اگر دس من فی ایکڑ ا نہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ہم دکھا ئیں گے ، فی ایکڑ دس من پیدوار کریں گے تو اسی ایکٹر پہ دس من فی ایکڑ پیداور کے نتیجے میں آٹھ سو من پیدا ہوگی۔لیکن اگر ہیں ایکٹر بڑھا 505