تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 474
خطبہ جمعہ فرمودہ 07 نومبر 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم عاملہ کے رکن کے طور پر تیار کرنا چاہتے ہیں۔تا کہ جب تم پر یہ ذمہ داریاں ہوں تو تم اس طرح ادا کر و محض ایسے احمدی نہ بنو، جو باہر بیٹھ کر مجلس عاملہ پر تبصرے کر رہا ہو۔بلکہ ایسے احمدی بنائیں، جو وہاں بیٹھے ہوں، جن پر لوگ تبصرے کرنے کی کوشش کریں اور ان کے پاس مؤثر جواب ہوں۔پھر ہر پہلو سے ان کے حقوق کیا ہیں؟ ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ خلافت کا نظام کیا ہے؟ انصار اللہ کا نظام اور خدام الاحمدیہ کا نظام یعنی ذیلی تنظیموں کا کام کیا ہے؟ ان سارے امور سے ان کو واقف کرانا اور پھر جماعت کی تاریخ سے ان کو آگاہ کرنا اور ایسے مؤثر کردار ادا کرنے والے احمدیوں کی صفات یا ان کی زندگیوں کے حالات سے مطلع کرنا، جن کا کردار آج بھی زندہ ہے۔جب اس کردار پر آپ نظر ڈالتے ہیں تو وہ آپ کو مرتعش کر دیتا ہے۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید رضی اللہ عنہ کی زندگی کے واقعات ہیں۔انہوں نے احمدیت میں بہت مختصر زندگی دیکھی لیکن ایسی عظیم زندگی تھی کہ رشک سے ہمیشہ دنیا کی نگاہ دیکھتی رہے گی کہ کاش ہمارے سینکڑوں سال کے بدلے وہ مختصر زندگی ہمیں نصیب ہو جاتی۔جب ان کے کردار پر نظر آپ ڈالتے ہیں، ان کے واقعات سے نئے آنے والوں کو آگاہ کرتے ہیں تو آپ کو کسی زور لگانے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ آپ کی باتوں سے زیادہ زندہ وہ کردار آج بھی ہے۔آج بھی اس میں اس بات کی اہلیت ہے کہ دلوں کو متحرک کر دے اور خون کو گرم کر دے اور نئے حوصلے پیدا کرے، انسانوں میں اور نئے عزم بلند کرے، ان کے سینوں میں۔ایسے لوگ ، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھی تھے، انہوں نے کیا کیا ، کیا؟ کس طرح دنیا میں قربانیاں پیش کیں؟ کس طرح دنیا کو تبدیل کیا ؟ کس طرح قول اور فعل کے بچے ثابت ہوئے؟ صادق القول تھے، صادق العمل تھے، ان کی باتوں سے آگاہ کرنا۔جب ان سب باتوں پر آپ نظر ڈالیں گے تو معلوم ہوگا کہ اتنا بڑا کام کرنے والا ہے کہ اس کے لئے مسلسل کئی سال کی محنت چاہئے۔ورنہ ساری دنیا کی زبانوں میں اس قسم کا لٹریچر تیار کرنا اور ایسے احمدی پیدا کرنا، جو ساتھ ساتھ واقف ہوتے چلے جائیں اور زبانی ان باتوں کو آگے پھیلانے کے اہل ہوں۔بہت بڑی محنت کی ضرورت ہے۔جرمنی کے چند روز کے قیام میں جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں منصوبے ڈالے، وہ تو کافی وسیع ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے۔اور بہت سی باتیں ہیں، جو وقتاً فوقتاً جماعتوں کو ہدایتوں کی صورت سی میں بھجوائی جاتی رہیں گی۔صرف فکر یہ ہوتی ہے کہ اگر اکٹھی زیادہ ہدایتیں دی جائیں تو ہمت بعض دفعہ ٹوٹ جاتی ہے۔آدمی سمجھتا ہے کہ اتنی باتیں میں کرہی نہیں سکتا، چلو چھوڑ دو۔اس لئے مجھے بھی بڑا صبر کرنا پڑتا ہے۔ایک وقت میں تھوڑی تھوڑی غذا دینے کی کوشش کرتا ہوں تا کہ یہ ہضم ہو، پھر آگے چلیں۔پھر آگے یہ 474