تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 454
خطبہ جمعہ فرموده 131 اکتوبر 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم چلی گئیں ؟ کس ملک میں جا کر سیٹل ہوگئیں؟ اور جب پتہ ہی نہیں ہے تو کس کو لکھیں کہ وہ اپنے بزرگ باپ دادا کے کھاتوں کو زندہ کریں؟ اس لئے میں نے ان سے یہ کہا تھا کہ آپ ان اسماء کی فہرست شائع کریں، کتاب شائع کریں اور کثرت سے جماعتوں میں بھجوائیں اور آگے امراء تمام جماعت کے احباب کو یہ تاکید کریں کہ وہ نام پڑھیں، اپنے پرانے آباؤ اجداد کے نام تلاش کرنے کی خاطر سارے نام پڑھیں اور خصوصاً اگر ان کو یاد ہو کہ وہ پرانے کس علاقے سے تعلق رکھتے تھے؟ تو اس علاقے کی جماعت کے کوائف کو خاص طور پر لوظ رکھیں۔اس طرح نظر ڈالنے سے ہو سکتا ہے کہ ان کو یاد آ جائے کہ ہمارے دادا فلاں تھے یا پڑ دادافلاں تھے، انہوں نے تحریک میں حصہ لیا تھا اور ان کی اس نیکی کو زندہ رکھنے کی خاطر اور ان کے احسانات کا بدلہ اتارنے کی خاطر ان کے نام کے کھاتوں کو زندہ کیا جائے۔اس سلسلہ میں بیرون پاکستان میں چونکہ انتشار ہے جماعت کا ، بہت زیادہ انتشار، غیر منظم ہونے کے معنوں میں نہیں بلکہ بہت زیادہ پھیلاؤ ہے، اس لئے وہاں پوری توجہ سے اس کام کا تتبع نہیں کیا گیا۔اور ایک قابل فکر بات یہ ہے کہ ان ممالک میں جب میں نے نوجوان نسلوں سے پوچھا ہے کہ تمہارے دادا کون تھے یا تم کس ملک کے رہنے والے ہو؟ تو اکثر جواب میں Blank چہرہ نظر آیا۔ان کے چہرے پر آثار ہی ظاہر نہیں ہوئے۔پتہ ہی نہیں کہ دادا کون ہے اور کس جگہ سے تعلق رکھنے والے تھے ؟ کس خاندان کے تھے؟ ابتدا میں انہوں نے کیا قربانیاں پیش کیں؟ تو سوالات کا مقصد تو یہی تھا کہ کہ پتہ لگے کہ نئی نسل کو اپنے محسنوں کا پتہ ہے کہ نہیں ؟ ضمناً مجھے خیال آیا کہ جب ان کو پتہ ہی نہیں ہے تو ان بے چاروں نے پرانے کھاتے کیا زندہ کرنے ہیں۔اس لئے یہ بہت ہی اہم بات ہے کہ اپنی نسلوں کو اپنے خاندان کے بزرگوں کے واقعات بتا ئیں۔اور ان کو پوری طرح روشناس کرائیں کہ احمدیت کس طرح ان خاندانوں میں داخل ہوئی ؟ کس قسم کی قربانیاں انہوں نے دیں؟ کیا ان کا مقام اور مرتبہ تھا؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے کیا کیا نشانات ان پر ظاہر فرمائے؟ کیسا ان کو جماعت سے عشق تھا، کیس والہانہ تعلق تھا؟ اور ان کا اثر رسوخ علاقہ میں کیا تھا؟ کیسے معزز لوگ تھے وہ؟ یہ سارے واقعات ایسے ہیں، جن کا ذکر عام ہوتے رہنا چاہئے۔اگر یہ ذکر چلے گا تو آپ کی اگلی نسلوں کا پہلی نسلوں کے ساتھ گہرا تعلق قائم ہوتا چلا جائے گا۔اور یہ جو خطرہ در پیش ہے باہر کے رہنے والوں کو کہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو یہاں کا معاشرہ ہم سے چھین نہ لے، اس کے دفاع کے لئے یہ جو بندھن باندھیں گے، آپ ان کے اور اپنے پرانے آباء واجداد کے درمیان، یہ بہت ہی مفید کام سرانجام دیں گے۔اس لئے یہ 454