تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 448
پیغام بر موقع سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکز یہ قادیان تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم کے الفاظ میں اس طرف لطیف اشارہ فرمایا ہے کہ ماؤں کی اچھی تربیت کے نتیجہ میں ہی ساری قوم کا قدم جنت کی طرف اور ترقی کی طرف اٹھ سکتا ہے۔اسی غرض سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے لجنہ اماءاللہ کی تنظیم قائم فرمائی تھی۔تا ان کی اچھی تربیت کے ذریعہ صادقوں کی وہ جماعت تیار ہو، جودین کی خدمت اور مخلوق کی ہمدردی میں عدیم المثال ہو۔اور یہی خلاصہ ہے، آپ کے عہد کا جو آپ ہمیشہ دہراتی ہیں۔یادرکھیں بچی تو حید تقاضا کرتی ہے، اس بلائی روح کا، جس کی احد احد کی صدائیں صرف خدا کو اپنا معبود و مقصود اور مطلوب قرار دے کر اس کی وفاداری اور بندگی کا دم بھرتی ہوں۔کیونکہ وہی سچا، زندہ اور وفادار خدا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ اس رنگ میں اپنے رب سے محبت کریں گی اور اس کی طرف جھکیں گی تو وہ ہمیشہ آسمان سے آپ کی مدد کے لئے اترے گا اور آپ کے خلاف کفر کی سب تدبیروں کو یکسر باطل کر دے گا۔انشاء اللہ العزیز پیاری بہنو! جہاں تک حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی دوسری غرض یعنی مخلوق خدا سے ہمدردی اور محبت کا تعلق ہے، یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے بارے میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھلایا ہے کہ اس کی بنیاد الحب فی اللہ پر ہونی چاہئے۔یعنی محض اللہ کی خاطر اس کی مخلوق سے محبت کی جائے اور اس کے عوض کبھی جزاء یا شکر و سپاس کی خواہش دل میں نہ رکھی جائے۔پس آپ بھی اس ارشاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ کی خاطر اس کے بندوں سے محبت کریں۔کسی سے کینہ نہ رکھیں، کسی سے بغض نہ رکھیں کسی سے حسد نہ کریں، باہم اتفاق رکھیں ، ہر ایک کی دلداری کریں ، بچی پر ہیز گاری سے کام لیں اور حسن سلوک سے پیش آئیں۔یقیناً محبت سے ہی دل جیتے جایا کرتے ہیں۔اور یہ محبت ہی ہے، جو دنیا کو ظلمتوں سے نکال کر نور کے اجالوں میں لا بٹھایا کرتی ہے۔لیکن اس مقصد میں کامیابی تبھی ممکن ہے، جب آپ اپنے گھروں کو جنت ارضی میں تبدیل کر دیں گی۔اور ان میں پلنے والی نسلوں کی اچھی تربیت کر کے انہیں اپنے نصب العین سے وہ مکمل آگہی دیں گی کہ جس کے نتیجہ میں وہ ہمیشہ فطری نیکی اور طبعی جذبہ حب خلائق سے سرشار ہو کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بنی نوع انسان کے دلوں کو جیتے رہیں۔پس مسیح پاک کے ان نونہالوں کی، جو آپ کے پاس جماعت کی ایک امانت ہیں، اچھی تربیت کریں۔اور اس غرض کے لئے ہمیشہ اس امر کو ذہن نشین رکھیں کہ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کی تربیت کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے۔لہذا اسی زمانہ سے خدا کے حضور درد دل سے دعائیں کرتے ہوئے ان کی دینی و دنیوی ترقی کے لئے انہیں زیور علم وعمل سے آراستہ کرنے کی کوشش کریں۔اور بچپن کی تربیت کے ذریعہ 448