تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 428 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 428

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 1986 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم اور ایک موقع پر مسجد میں جب میں نے دیکھا کہ بعض بچوں نے بہت ہی زیادہ ہلڑ مچایا اور باقیوں کی بھی نماز خراب کی تو میں نے بڑی شدت کے ساتھ اس تکلیف کا جماعت کے سامنے اظہار کیا۔یہ واقعہ ہر جگہ نہیں ہوا، صرف ایک ہی جگہ ہوا ہے۔بعد میں اس جماعت کی طرف سے مجھے چھٹیاں آنی شروع ہوئیں۔مردوزن کے انتہائی تکلیف میں مبتلا ہو کر معذرت کے خط آنے شروع ہوئے۔میں نے ان کو جواباً بتایایا جن سے بھی میری بات ہوئی کہ اس میں میری معافی کا سوال ہی کوئی نہیں ہے، تم اس ناراضگی کو سمجھے ہی نہیں، یہ اس قسم کا معاملہ نہیں ہے کہ تم نے معافی مانگ لی، میں نے کہا: معاف ہو گیا اور معاملہ ختم ہو گیا۔اس تجربے سے ایک بہت ہی درد ناک اور تکلیف دہ تصویر میرے سامنے ابھری ہے۔جو سالہا سال کے ماضی سے تعلق رکھتی ہے۔ایسے گھر میری آنکھوں کے سامنے آئے ہیں، جہاں نہ نمازیں ہوتی ہیں اور نہ تلاوتوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔وہ جو دین کا رخ ہے، دین کا پیار ہے، وہ ان گھروں میں رچا بسا نہیں۔اور بچے اس طرح پرورش پارہے ہیں، جیسے بے چھت کے ہوں اور ان کے اوپر کوئی امن کا سایہ نہیں ہے۔لا زمادہ بچے پیدا آپ کر رہے ہیں اور وہ بن کسی اور کے رہے ہیں۔اس انتہائی تکلیف دہ ماضی کا یہ علاج تو نہیں ہے کہ آپ مجھ سے معافی مانگ لیں اور میں کہوں کہ اچھا الحمد للہ معافی ہوگئی۔اور ہم دونوں مصافحہ کر لیس یا گلے لگ جائیں۔یہ تو اس کا نہایت ہی بچگانہ حل ہے۔اس کی معافی تو تلافی مافات کے ذریعہ ہو سکتی ہے۔اس کی معافی تو خدا سے مانگنی پڑے گی۔اعمال میں تبدیلی کے ذریعہ، ہر گھر میں ایک پاکیزہ ماحول قائم کر کے اس کی تلافی ہو سکتی ہے۔وہی اس کی سچی معافی ہو گئی۔" پس اس کو آئندہ کے لئے اپنے لئے ایک خصوصی جہاد بنالیں۔اب آپ یہ سوچیں گے کہ بظاہر اس کا فوری طور پر ہمارے اس مقابلہ سے تعلق نہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ میدان ہے، جس میں ہم نے فتح حاصل کرنی ہے یا شکست حاصل کرنی ہے۔اسی میدان میں یہ بازی ہاری جائے گی یا جیتی جائے گی۔ہم مذہبی اقدار کو لے کر اٹھے ہیں، ہم سچائی کو لے کر اٹھے ہیں، ہم اس اسلام کو لے کر اٹھے ہیں، جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلام ہے۔عددی غلبہ اگر آئے بعد میں اور جیسا کہ آئے گا تو ہوسکتا ہے کہ ہماری بعد کی نسلیں اس عددی غلبے کو دیکھیں لیکن ایک غلبہ جو بہت زیادہ قیمت رکھتا ہے، جو بہت زیادہ قدر رکھتا ہے، در حقیقت جس غلبہ کی خاطر مذہبی قو میں اپنی تمام جانوں کو مٹادینے کے لئے تیار ہو جایا کرتی ہیں، اپنے اموال کو فدا کرنے کے لئے تیار ہو جایا کرتی ہیں، وہ روحانیت کا غلبہ ہے۔وہ سچائی کا غلبہ ہے، وہ حق کی قدروں کا غلبہ ہے، وہ ان اخلاق حسنہ کا غلبہ ہے، جن کی خاطر مذہب آیا کرتے ہیں، وہ تعلق باللہ کا 428