تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 427
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد؟ اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 17 اکتوبر 1986ء وو آپ کا یوسف تو روحانی غلبہ ہونا چاہئے خطبہ جمعہ فرمودہ 17 اکتوبر 1986ء۔یہ ایک بہت ہی عظیم الشان مضمون ہے، جو قرآن کریم کی اس آیت نے ہمیں سکھا دیا اور اسی کا نام ہے، وہ اعمال جو باقی رہنے والے ہیں، جو وزن دار ہیں، وہ ہتھیار، جن میں قو تیں پائی جاتی ہیں۔یہ تو میں، جوان ہتھیاروں سے لیس ہوں، مذہبی جنگوں میں کبھی ہار نہیں کرتیں ، لاز مافتح یاب ہوا کرتی ہیں۔اس پہلو سے میں ایک خاص امر کی طرف مزید توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جب میں نے کینیڈا کا دورہ کیا تو جہاں بہت سے خوش کن پہلو بھی نظر آئے ، جماعت میں بیداری کے آثار، ان کا رابطہ، ان کا اسلام کو غیروں تک پہنچانے کا نہ صرف عزم صمیم بلکہ دن بدن زیادہ منہمک ہوتے چلے جانا اور ماحول کو متاثر کرتے چلے جانا، یہ سارے پہلو ایسے تھے، جن سے بہت خوشی ہوئی۔لیکن ایک پہلو بعض جگہ کمزوری کا بھی تھا۔اور اس سے طبیعت میں نہ صرف یہ کہ پریشانی ہوئی بلکہ اس پر میں نے سوچا کہ ساری جماعت کو مطلع کرنا چاہئے ا کہ اس پہلو کی طرف خصوصیت سے وہ لوگ توجہ دیں، جو مغربی معاشرہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔بعض بچے ، جو ملاقات کے وقت سامنے آتے تھے، ان کی بول چال سے، ان کی طرز سے ایک بات صاف معلوم ہو جاتی تھی کہ ان کے گھروں میں عبادتوں کا ماحول نہیں ہے۔اور ان کے گھروں میں قرآن کریم سے تعلق اور پیار کی باتیں نہیں ہیں۔بلکہ اگر ہے تو مغربی موسیقی ہوگی، اگر ہے تو ٹی وی کے پروگرام ہوں گے یاد نیا کی تعلیم کی باتیں ہوں گی۔ماں باپ کے چہروں سے یہ بات ظاہر نہیں ہوتی تھی۔لیکن اولاد کے چہروں سے یہ بات ظاہر ہو جاتی تھی۔کیونکہ ماں باپ کی تربیت اور قسم کے ماں باپ نے کی ہوئی تھی اور اس اولاد کی تربیت وہاں اور قسم کے ماحول نے کی ہے۔اور ماں باپ نے اس ماحول سے بچانے میں غفلت کی۔اور اپنے معاشرہ کو خود اپنے گھروں میں راسخ نہیں کر سکے، اپنے گھروں میں رائج نہیں کر سکے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر چہ وہ بھی مغربی رو میں بہہ رہے ہیں لیکن ان پر پرانی تربیت کے آثار ابھی تک باقی ہیں۔اور جو بچے ہیں، ان کے چہرے بتا رہے ہیں کہ وہ ان اثرات سے آزاد ہو کر کسی اور سمت میں چل ہے ہیں۔یہ ہے وہ نہایت ہی خطرناک بات ، جس کی وجہ سے میرا دل وہاں بہت کڑھا۔427