تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 334
خطبہ جمعہ فرمودہ 104اپریل 1986ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم جو بے احتیاطیاں کرنے والے ہیں، ان کو میں متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ بے احتیاطیاں رفتہ رفتہ بددیانتیوں میں بدل جایا کرتی ہیں۔اس لئے اگر آپ بے احتیاطی سے بچیں گے اور شروع میں ہی تقویٰ کے معیار کو بڑھا کر سلسلے کے اموال خرچ کریں گے تو اس کا دہرا فائدہ پہنچے گا۔اول یہ کہ آپ خدا تعالیٰ کی نظر میں زیادہ مقبول ٹھہریں گے، آپ کے ذاتی اموال میں بہت برکت ہوگی ، آپ کی زندگی کے ہر شعبہ میں اللہ تعالی برکت عطا فرمائے گا، آپ کی خوشیوں میں برکت بخشے گا، آپ کے ایمان اور خلوص میں برکت بخشے گا۔اور دوسرا یہ کہ جماعت احمدیہ کے مالی قربانی کے معیار کو آپ اونچا کرنے والے ہوں گے۔امر واقعہ یہ ہے کہ خرچ کرنے والے کے تقویٰ کا پیسہ دینے والے کے تقویٰ سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔جہاں خرچ کرنے والوں کا تقویٰ اونچا ہو، وہاں خدا کی راہ میں قربانی کرنے والوں کا تقویٰ بھی خود بخود اونچا ہوتا چلا جاتا ہے۔چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ اکثر احمدیت سے باہر چندے مانگنے والوں کی یہی ہے۔بے شمار روپیہ پڑا ہوا ہے اور بے شمار ایسے دل بھی ہیں، جو خدا کی راہ میں خرچ کرنا چاہتے ہیں مگر بد بختی ہے بعض قوموں کی کہ وہاں تقویٰ کے ساتھ خرچ کرنے والے نہیں ملتے۔اس لئے دلوں میں گانٹھیں پڑگئی ہیں۔دینے والا ہاتھ کھلتا نہیں ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے لیے تجربہ کی بناء پر کہ اس قوم کے لینے والوں نے کبھی دیانت کا مظاہرہ نہیں کیا۔لیتے کسی اور نام پر ہیں اور خرچ کسی اور نام پر کرتے ہیں۔ان کی + شکلیں بتارہی ہوتی ہیں کہ یہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے لوگ نہیں ہیں، مانگنے والے ہیں۔پس یہ بیماری جب بہت بڑھ جاتی ہے، پھر تو قوم کے لئے ایک کوڑھ کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔لیکن آغاز بھی اگر اس کا ہو، تب بھی نقصان پہنچتا ہے۔اور بالعموم مختلف اتار چڑھاؤ جو دینے والوں کے آپ کو نظر آئیں گے، ان کا تعلق خرچ کرنے والوں کے تقویٰ کے اتار چڑھاؤ سے ضرور ہوگا۔اس لئے ضروری ہے کہ سلسلہ کے اموال دنیا کے جس گوشہ میں بھی وصول ہورہے ہیں اور جس کونے میں بھی خرچ کئے جارہے ہیں، وہاں تقویٰ کے معیار کو دونوں طرف سے اونچا کیا جائے۔دینے والوں کے معیار کو ہی نہیں بلکہ خرچ کرنے والوں کے معیار کو بھی اونچا کیا جائے۔جو بے احتیاطی کی صورتیں میرے سامنے آرہی ہیں، مختلف وقتوں میں توجہ بھی دلائی جاتی ہے لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ ضروری ہے کہ خطبہ میں بھی بالعموم ان کی طرف متوجہ کیا جائے۔جہاں تک ہمارے مشنز کا تعلق ہے یا پاکستان میں جو ادارے کام کر رہے ہیں، ان کا تعلق ہے، تین چار ایسے شعبے ہیں، جہاں بے احتیاطی کے آثار ظاہر ہورہے ہیں۔بجلی کا خرچ ہے، ٹیلیفون کا خرچ ہے، مہمان نوازی کا 334