تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 324
خلاصہ خطاب فرموده 23 فروری 1986ء تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔۔جده مفتم قرآن کریم کی اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ کیا وہ اس کے سوا کسی اور چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ساعته یعنی عظیم انقلاب اچانک واقعہ ہو جائے۔وہ لکھتے ہیں کہ حساب کی رو سے بغتہ کے اعداد 1407 بنتے ہیں۔اس پہلو سے حکیم محرم 1986ء کو بغیہ کا سال شروع ہو جاتا ہے۔یعنی 1407 ہجری کا آغاز بھی 1986ء میں ہو رہا ہے اور آغاز کے چند مہینے اس سال کے ساتھ مطابقت کھاتے ہیں۔اب یہ تین پہلو ایسے ہیں، جو روزمرہ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔یہ واقعہ کہ جماعت احمدیہ پر سو سال اور مصلح موعود کی پیشگوئی پر سو سال ایک ہی سال میں پورے ہو جائیں، یہ حساب کی رو سے آپ دیکھیں تو ہزاروں سال میں پورا ہونے والی بات ہے۔اس لحاظ سے جماعت احمدیہ کے لئے یہ سال غیر معمولی اہمیت کا سال ہے۔راہ مولیٰ کے اسیروں کے لئے دعا کی تحریک کرتے ہوئے، حضور رحمہ اللہ نے فرمایا:۔مصلح موعود کی پیشگوئی میں ایک خوشخبری یہ بھی تھی کہ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔اس میں شک نہیں کہ یہ پیشگوئی پہلے بھی پوری ہو چکی ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ حضرت مصلح موعود بہت سے مظلوم اسیروں کی رستگاری کا موجب بنے۔لیکن آج اس دور میں کچھ ایسے اسیر بھی ہیں، جو خالصه اسیران راہ مولیٰ ہیں۔وہ کسی سیاست کے نتیجے میں اسیری کے دن نہیں کاٹ رہے، وہ کسی اپنی کمزوری یا اپنے گنا ہوں یا شامت اعمال کے نتیجہ میں قید و بند کی صعوبتیں نہیں دیکھ رہے۔محض اللہ اور محض اس لئے کہ انہوں نے خدا کی طرف سے ایک آنے والے کی آواز پر لبیک کہا ، وہ اسیر بنائے گئے۔اور طرح طرح کے دکھوں کا نشانہ بنائے گئے۔پس اپنے رب کے حضور روتے ہوئے یہ دعا کریں کہ اے اللہ ! اس پیشگوئی مصلح موعود کے صدقے ہی اس سو سال کے جشن کو دکھاتے ہوئے ہمیں وہ دن دکھا کہ ہم اپنے پیاروں کی آزادی کے دن بھی دیکھیں، جو تیری راہ میں قید و بند کی صعوبتوں کا شکار بنائے گئے ہیں۔ان کو آزاد پھرتے ہوئے دیکھ کر ہماری آنکھوں کو طراوت حاصل ہو۔اے خدا! اپنی رحمت سے وہ ساری زنجیریں توڑ دے، جن میں احمدیوں کو کسی نہ کسی رنگ میں بھی جکڑا گیا ہے۔وہ ساری پابندیاں دور فرمادے، جن پابندیوں کو احمد بیت کی روحانی ترقیوں کے روکنے کی خاطر عائد کیا گیا ہے۔یہ وہ اسیر ہیں، جو تیری راہ میں ظاہری طور پر بھی اسیر بنائے گئے اور قانون کے شکنجوں میں جکڑ کر بھی اسیر بنائے گئے۔جو آج تیرے وعدوں کے منتظر تیری رحمت کی راہ دیکھ رہے ہیں۔اے خدا ان ساری زنجیروں کو تو ڑ کر پاش پاش کر دے اور اگر تو نے اپنی غیرت کے نمونے دکھانے کا فیصلہ کیا ہے تو ان سب کو پابند کر دے، جو آج ہمیں پابند کئے ہوئے ہیں۔مطبوعہ ضمیمہ ماہنامہ تحریک جدید اپریل 1986 ء و ہفت روزہ النصر 21 مارچ 1986ء) | 324