تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 312
ارشادات فرموده دوران مجالس عرفان 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم اور اختیارات و اعتقادات کے تفرقات موجود ہیں۔اسلام ہی ایک ایسا مذ ہب ہے، جو عالمگیر ہونے کا دعویدار ہے۔قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کو تمام دنیا کے لئے اللہ تعالیٰ کی روشنی کے مظہر اور لا شرقيه ولا غربیہ کے مصداق کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔قرآن کریم نے متعدد مقامات پر تمام بنی نوع انسان کے حقوق کے تحفظ پر بہت زور دیا ہے اور انسانوں کے حقوق مقرر کر کے انہیں پورا کرنے کی تلقین کی ہے۔خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ میں مسلمانوں کو یہ نقطہ بتایا گیا ہے کہ تمام انسانوں کی ابتدا ایک طرح ہوئی ہے۔ان کے فائدے اور ان کے نقصانات ایک ہی نوعیت کے ہیں۔اسلام کا دوسرا نقطہ بنی نوع انسان کے متعلق یہ ہے کہ ان کا پیدا کرنے والا بھی ایک ہے۔اگر ان دو نظریات کو قبول کر لیا جائے تو دنیا میں دائمی امن قائم ہو سکتا ہے۔احمدی ان دو اصولوں کو لے کر دنیا میں آئے ہیں لیکن مخالفت ان کی بھی ہورہی ہے۔اس لئے ایسے معاشرے کے وجود میں آنے کی توقع رکھنی ، جس میں کسی کے نظریات کی مخالفت نہ ہو ، ناقابل یقین ہے۔کیونکہ ایسا نہ کبھی پہلے ہوا ہے اور نہ آئندہ کبھی ہونے کی توقع ہے۔ہاں انسانی ذہن کو امن وسکون سے ہمکنار کرنے کی کوشش جماعت احمد یہ مخالفت کے باوجود کرتی چلی جائے گی اور اسلام کے ذریعے وہ ذرائع ا بنی نوع انسان کے سامنے رکھے گی ، جنہیں اختیار کر کے مختلف مذاہب کے درمیان صلح و آتشی پیدا کی جاسکتی ہے۔انسانی حقوق کی حفاظت ان ذرائع کا نصب العین ہے۔اگر ہم ان حقوق کو پورا کر سکیں تو کم از کم امن کے پہلے درجے کو تمام بنی نوع انسان کے درمیان اخوت کا رشتہ پیدا کر کے حاصل کیا جاسکتا ہے۔فرمایا:۔امن کا دوسرا پہلو، جو اعلیٰ وارفع درجے کا امن ہے اور جس کا مقصد انسانوں کو اپنے خالق کے ساتھ ملانا ہے، اس کے بغیر انسان کا مقصد حیات پورا نہیں ہوتا۔جس شخص کا اپنے خدا سے تعلق نہ ہو، اس کا نفس مطمئن نہیں ہوتا اور جس کا نفس مطمئن نہیں، وہ دنیا میں امن سے نہیں رہ سکتا۔جماعت احمدیہ کا مقصد ایسے لوگوں کو پیدا کرنا ہے، جو اپنے ارد گر د امن پھیلانے کا موجب بن جائیں اور جن سے دنیا کو صرف محبت واخوت کے جذبات ہی ملیں۔یہی بچے مذہب کا مقصد ہے۔جماعت احمد یہ ہر ملک میں لٹریچر چھپوا کر، اپنے بچوں کی تربیت ان اصولوں کے تحت کر کے تا کہ وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر کام کرنا سیکھیں اور اپنی زندگیاں وقف کر کے اس کوشش میں مصروف ہے۔لجنہ اماءاللہ کے تحت عورتیں ، خدام الاحمدیہ کے 312