تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 291 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 291

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خلاصہ خطاب فرمودہ 08 دسمبر 1985ء انداز نہیں ہوسکتا کہ رپورٹ لکھنے وا کیا چاہ رہاہے۔میرے خیال میں رپورٹ لکھنے کے دوران زیادہ اہم باتیں شروع اور آخر میں لکھنی چاہئیں۔مثلاً اس عرصہ میں ہم نے دس نئے داعی الی اللہ تیار کیے ہیں اور بفضل خدا اتنے نئے آدمی جماعت میں داخل ہوئے ہیں۔جن کے پاس وہ رپورٹیں آتی ہیں، انہیں بھی اتنی مہارت ہونی چاہیے کہ ایک سرسری سی نظر ڈالتے ہی سمجھ جانا چاہیے اور خامیوں کی طرف اس کو توجہ دلانی چاہیئے۔پھر فرمایا:۔تمام سیکرٹریان کو خواہ وہ مرکزی ہوں یا مقامی، متواتر توجہ دلاتے رہنا چاہیے۔انہیں بعض اوقات کھلی چھٹی دے دی جاتی ہے اور اس طرح گویا انہیں کام نہ کرنے کی ترغیب مل جاتی ہے، جو نہایت تکلیف دہ امر ہے۔اس سے ایک تو کام نہیں ہوتا ، دوسرے اور بھی بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔فرمایا:۔اس وقت میری مخاطب صرف یو کے کی جماعت ہی نہیں بلکہ دنیا کی تمام جماعتیں ہیں۔بعض جگہوں پر امیر اپنے سیکرٹریوں سے بالکل کام نہیں لیتے اور نہ ہی انہیں کام پر ابھارتے ہیں۔جماعت کا کام یا تو وہ خود ہی کرنا چاہتے ہیں یا ایسے افراد منتخب کر لیتے ہیں، جن پر انہیں زیادہ بھروسہ ہوتا ہے۔سیکرٹریوں کو کام نہ دے کر اور دوسرے لوگوں سے کام کروا کے وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ گویا سیکرٹری نا اہل ہے، اس لئے امیر مجبور ہے کہ وہ دوسرے لوگوں سے کام کروائے۔دوسری طرف سیکریٹری یہ خیال کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہمارے کام کی کسی کو ضرورت نہیں تو ہم خواہ مخواہ دخل اندازی کیوں کریں۔اس صورتحال کے خلاف احتجاج کر کے لوگوں کی تنقید کا نشانہ بننے سے بہتر ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے۔بعض اوقات سیکریٹری بہت حساس ہوتے ہیں اور وہ اپنے اختیارات سے بڑھ کر حقوق جتانے شروع کر دیتے ہیں اور مجلس عاملہ میں لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ایک دوسرے پر اعتراضات اور پھر ان اعتراضات کا جواب دینے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اس جماعت میں اس قسم کا رویہ ہرگز نہ ہونا چاہیے، جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے، جو اپنے روایتی نظم و ضبط کی وجہ سے مشہور ہے۔یہ وہ جماعت ہے، جس نے اس خلیفہ کے زیر سایہ نسل در نسل تربیت پائی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے مصلح موعود کا خطاب دیا ہے، جس نے اسلامی نظم وضبط کو اس جماعت کی رگوں میں خون کی طرح دوڑا دیا تھا۔آج کل ہونے والے لڑائی جھگڑوں کے واقعات ہمیں اس حقیقت کا احساس دلاتے ہیں کہ کسی مقام کو حاصل کر لینا ہی ہمارا مقصد نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے قائم رکھنا ایک ضروری امر ہے۔اور جب کبھی 291