تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 255 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 255

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اکتوبر 1985ء سے اکثر دنیا میں ابھی تک اس طرف پوری توجہ نہیں دی گئی اور اکثر لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ہمارے بزرگ کون تھے، جن کے چندے اتنے تھے اور پھر وہ اچانک ان کی وفات سے بند ہو گئے۔اس لئے ان کو میں نے کہا ہے اب کہ ساری دنیا میں فہرستیں بھجوائیں اور جماعتوں کو ہدایت کریں کہ وہ مختلف اخباروں میں بار بار اعلان کروائیں، جو مقامی اخبار چھپتے ہیں۔خصوصاً پاکستانیوں کو تلاش کر کے ان تک وہ فہرستیں پہنچائیں اور کہیں کہ ان میں نام تلاش کرو۔تمہارے آباؤ اجداد میں سے تو کوئی ایسا نام نہیں، جس کی وفات کے ساتھ اس کی یہ نیکی بھی بظاہر مرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہو۔اور پھر عہد کرو کہ ان کی طرف سے ہم نے اس چندے کو ہمیشہ کے لئے جاری کرنا ہے۔امید ہے کہ انشاء اللہ مزید کوشش سے ایک، دو سال کے اندر ہر کھاتے کو زندہ کر دیا جائے گا۔اور جیسا کہ میں نے وعدہ کیا تھا، انشاء اللہ اس وعدے پر قائم ہوں جتنی خدا نے مجھے توفیق دی ، جن کھاتوں کا کوئی والی وارث نہ ملا، وہ میری طرف منتقل کر دیئے جائیں، انشاء اللہ میں پوری کوشش کروں گا، اپنی اولاد کو بھی نصیحت کروں گا کہ ان کھاتوں کو ہمیشہ زندہ رکھیں۔چونکہ اس وقت روپے تھوڑے ہوتے تھے، ان کی قیمت بہت زیادہ تھی۔اخلاص کے لحاظ سے ان کا مقام بہت بلند تھا۔لیکن بہر حال تھوڑے تھے نظر آنے کے لحاظ سے۔اس لئے اتنا مشکل کام نہیں ہے۔یعنی آج کل کے معیار کے لحاظ سے اگر اس وقت کوئی پانچ روپے دیتا تھا تو بہت بڑی چیز تھی ، آج ہزار بھی دے تو اس کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں ہے۔تو ہزار آدمیوں کا کھانہ زندہ کرنے کے لئے پانچ ہزار روپے سالانہ چاہئیں۔اور اس سے کئی گنا زیادہ چندہ دینے والے خدا کے فضل سے جماعت میں موجود ہیں۔تو اگر اس طرح کے کھاتے زندہ کرنے ہوں تو ہزار نام تو آسانی کے ساتھ انشاء اللہ تعالیٰ میں عہد کروں گا کہ ضرور پورا کروں۔باقی احباب بھی توجہ کریں گے تو انشاء اللہ یہ سارے کھاتے زندہ ہو جائیں گے۔خدا کے حضور ہمیشہ کے لئے تو پہلے ہی زندہ ہیں، مگر ان کی یادیں بھی زندہ ہوں گی ، ان کے لئے دعاؤں کی تحریکیں بھی زندہ ہوں گی۔اندازہ لگائیں آج سے ہزار سال کے بعد قادیان کے یا ہندوستان کے وہ چند چندہ دینے والے ایسے ہوں گے، جن کے نام پر چندے دیئے جا رہے ہوں گے۔ایک عجیب بے نظیر بات ہوگی۔حیرت سے دنیا ان لوگوں کو دیکھے گی کہ جن کے کھاتے ان کی وفات سے ہزار سال بعد بھی زندہ ہیں اور چلتے چلے جارہے ہیں اور کبھی نہیں مرتے۔اور پھر ان کے لئے دعاؤں کی تحریکیں بھی پیدا ہوں گی۔جماعت کی جو قربانیوں کا معاملہ ہے، یہ تو اتنا وسیع مضمون ہے کہ اس خطبہ میں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اس کا حق ادا کیا جاسکے۔مجھے زبانی پچھلے سال سے لے کر اب تک کی باتیں یاد ہیں قربانی کی، 255