تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 232
خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اکتوبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا ( حم السجدة : 34) آپ حسین ہو جائیں گے ، سب سے زیادہ حسین قول کہنے والے بنیں گے مگر اس وقت جبکہ اللہ کی طرف بلائیں اور اللہ کے رنگ اختیار کر کے اس کی طرف بلائیں۔عمل صالحا کا یہی مطلب ہے کہ صرف اللہ کی طرف ہی نہ بلاؤ بلکہ اللہ کے رنگ اختیار کر کے پھر اللہ کی طرف ہی بلاؤ۔یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ آئندہ انشاء اللہ تعالٰی اہل سپین کو اسلام کی طرف بلانے کے لئے یہ نیا لائحہ عمل بہت بہتر اور مفید ثابت ہوگا۔سپین میں اس دفعہ ایک اور نیا تجربہ ہوا، جو بہت ہی دکھ والا بھی تھا لیکن اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے خاص دعاؤں کی بھی توفیق بخشی۔سفر کے دوران ایک ایسا خیال ہمارے ساتھی مکرم منصور احمد خاں صاحب کو آیا، جس کا پہلے کم سے کم مجھے خیال نہیں آیا تھا۔وہ ہمارے وکیل التبشیر بھی ہیں اور سفر کے دوران پرائیویٹ سیکرٹری بھی وہی تھے اور میرے ڈرائیور بھی وہی تھے۔یہ تینوں کام خدا کے فضل سے انہوں نے بڑی ہمت سے کئے ہیں۔تو انہوں نے سفر کے دوران یہ بتایا کہ میں سوچ رہا ہوں کہ یہاں اتنے مسلمان بستے رہے ہیں، آٹھ سو سال تک آبا د ر ہے ہیں، ان کا مقبرہ کبھی نہیں دیکھا۔عمارتیں تو نظر آ رہی ہیں لیکن کہیں کسی مقبرے کا کوئی نشان نہیں ملتا۔اس وقت مجھے توجہ پیدا ہوئی اور میں نے کہا: واقعہ جب پچھلی دفعہ بھی جب ہم یہاں آئے تھے اور اس سے پہلے بھی جب میں اکیلا سپین آیا تھا تو اس وقت بھی سارے سفر کے دوران کہیں بھی سپین میں مسلمانوں کا کوئی مقبرہ کہیں نظر نہیں آیا۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیال ان کے دل میں اللہ تعالیٰ نے خاص مقصد کے لئے ڈالا تھا کیونکہ دوسرے دن غرناطہ پہنچ کر جب ہم صبح کی سیر کے لئے نکلے تو تجویز یہ کیا گیا کہ اس جگہ جہاں غرناطہ کا الحمراء پیلیس (Palace) ہے، اس کے علاوہ بعض اور بھی ہیں، وہ اس وقت چونکہ بند ہوگا، اس لئے اس پہاڑی کی چوٹی وہاں سے سارے اندلس کا منظر دور دور تک نظر آتا ہے اور غرناطہ کے تو سارے پہلو ہر طرف سے بڑے صاف، واضح دکھائی دیتے ہیں۔چنانچہ ہم نے یہی فیصلہ کیا کہ اس پہاڑی کی چوٹی پر چلتے ہیں۔عموما جتنے بھی مسافر ہیں باز یارت کرنے والے ان کو الحمراء اتنے زور کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے کہ اس سے آگے پہاڑی پر جانے کا کسی کو خیال ہی نہیں آتا۔بہر حال چونکہ سیر کی عادت تھی ، اس لئے اس تجویز کو میں نے بڑا پسند کیا اور ہم اس پہاڑی کی چوٹی پر جانے لگے تو تقریباً دو تہائی فاصلہ طے کرنے کے بعد 232