تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 220 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 220

خلاصہ خطاب فرمودہ 13 اکتوبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم کریں۔جماعت احمدیہ کے ساتھ جو حسن سلوک مختلف ممالک میں ہو رہا ہے ، ضروری نہیں کہ ہر جگہ ہو۔ابتداء میں حضرت مسیح موعود کے ساتھ دہلی اور امرتسر وغیرہ میں کیا سلوک ہوا۔اسی طرح حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا سلوک ہوا، جبکہ آپ طائف کو زندگی بخشنے گئے تو انہوں نے جواباً موت برسائی۔یہ استقبال ہماری تاریخ کا اولین استقبال ہے اور وہی ہمارا سرمایہ ہے۔اگر بعد میں بعض ممالک سینے سے بھی لگائیں تو اس اولین استقبال کی عظمت سے ان کا کوئی مقابلہ نہیں۔اصل عزت یہ ہے کہ خدا کی خاطر تمہاری راہ میں روکیں ڈالی جائیں۔یورپ کے دوسرے ممالک کا تجربہ پہلے بزرگوں کی قربانیوں کا پھل ہے۔اور یہاں اگر آپ دعائیں کریں گے اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے پھیلاؤ کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے تو یہ روکیں زیادہ زور پیدا کر دیں گی۔خدا تعالیٰ کی طرف سے جب رفعتوں سے پانی گرتا ہے تو دنیا والے اس کو روک نہیں سکتے۔جس جماعت کا سرچشمہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے، اس کے لئے دنیا کی طاقتیں روک بننا چاہیں بھی تو ناممکن ہے کہ اس آسمانی پانی کو روک سکیں“۔فرمایا:۔اب ہمیں پہلے سے دس گنا کوشش کرنا ہوگی۔اور دعاؤں کا معیار بلند کر کے ہمیں خدا تعالیٰ پر انحصار کرنا چاہیے۔ان دو فیصلوں کے ساتھ ہم اس مشن کا افتتاح کریں گئے“۔پھر فرمایا کہ ” فرانس کو بہت اہمیت حاصل ہے۔کیونکہ حالیہ اعدادو شمار کی رو سے یورپ میں سب سے بڑھ کر یہاں لوگ مسلمان ہورہے ہیں۔دوسری طرف فرانسیسی نو آبادیات پر فرانس کا ایک خاص اثر ہے۔اب ہم فرانسیسی زبان میں اعلیٰ طباعت والا لٹریچر یہاں پھیلائیں گے۔جو ایک مشن کی کمی تھی ، وہ قائم ہو گیا۔اب جلد یہاں ایک با قاعدہ مبلغ متعین ہو جائیں گے۔دنیا بھر کی جماعت کا اور خصوصا فرانس کی جماعت کا فرض ہے کہ خصوصی دعائیں کریں۔امید ہے کہ آج کی تاریخ سے فرانس میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوگا“۔آخر پر حضور نے نہایت پر شوکت انداز میں فرمایا:۔وو جب سے یہ روک پڑی ہے، اس وقت سے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پیرس کے مضافات میں کھلی زمین پر ہم مسجد بنائیں گے۔تم اگر ایک روک ڈالنا چاہتے ہوتو ہم پیرس میں ہی کئی مساجد بنا ئیں گئے“۔اس کے بعد حضور انور نے پر سوز اجتماعی دعا کروائی۔( مطبوعه هفت روز والنصر 11 اکتوبر 1985ء) 220