تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 217
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 04 اکتوبر 1985ء ماری جائیں۔نا قابل بیان دکھ پہنچتا ہے۔بلا مبالغہ یہ کیفیت ہے۔کل مجھے میر صاحب بتا رہے تھے تو اس کو وقت میری حالت نا قابل برداشت تھی۔جب میں یہ بات سن رہا تھا کہ ایک گاؤں میں گئے اور وہاں جا کر پوچھا کہ یہاں کوئی مسجد ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ دیکھو یہ سارے گرجے یہ سب مسجدیں ہیں۔یہ سمجھے کہ شاید مذاق کر رہے ہیں۔ہم نے کہا کہ ہم تو مسجد کا پوچھ رہے ہیں ، گرجوں کی کیا بات کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: دیکھو تو سہی جا کر۔انہوں نے دیکھا تو ابھی تک عبارتیں لکھی ہوئی ہیں کہ فلاں بادشاہ اس مسجد میں آیا تھا، فلاں مسلمان بزرگ اس مسجد میں آیا تھا۔جس ملک کی یہ حالت ہو، وہاں کی تو گلی گلی پکار رہی ہے، آپ کو تبلیغ کے لئے۔اینٹ اینٹ دہائی دے رہی ہے کہ اے مسلمانو! اگر تم میں کوئی غیرت ہے اور کوئی محبت ہے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خدائے واحد و قہار کے ساتھ تو اٹھو اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرو تم میں سے ہر ایک کو طارق بن جانا چاہئے، تم میں سے ہر ایک کو خالد ہو جانا چاہئے۔تم میں سے ہر ایک میں وہ جذبہ جہاد پیدا ہونا چاہیے، جو محد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں میں پیدا کیا تھا۔سنتے نہیں آپ ان بستیوں کی آوازیں! اینٹ اینٹ پکار رہی ہے یہاں! تم پر فرض ہے ، تم جو یہاں آ کر دوبارہ آباد ہوئے ہو کہ دوبارہ اسلام سے اس ملک کو آشنا کرو، سارے گرجے دوبارہ اپنی مسجدوں میں تبدیل کرو۔لیکن اس طرح کہ پہلے دلوں میں وہ مسجدیں بناؤ۔تلوار کے زور سے نہیں ، جبر کے ساتھ نہیں۔ہر دل میں خدائے واحد کی محبت ڈال دو۔پھر دیکھو کہ سارے گرجے از خود مسجدوں میں تبدیل ہونے شروع ہو جائیں گے۔اور اس دفعہ اس شان کے ساتھ یہ تبدیلی پیدا کرو کہ پھر قیامت تک کے لئے شیطان ان جگہوں سے مایوس ہو جائے اور ہمیشہ ہمیش کے لئے یہ عبادت گاہیں خدائے واحد کے لئے وقف رہیں۔پھر دیکھیں کہ آپ کو خدا تعالیٰ کیا مقام اور کیا مرتبے عطا کرتا ہے۔تمام دنیا میں ہمیشہ ہمیش کے لئے آپ کے گیت گائے جائیں گے، آپ کے ناموں سے تاریخ کے آغاز ہوں گے۔یہ مؤرخ کہا کرے گا کہ فلاں احمدی نوجوان اس طرح کپڑے بیچنے آیا تھا ، فلاں احمدی نوجوان اس طرح ایک معمولی تجارت کے لئے آیا تھا اور اس نے یہ یہ تبدیلیاں پیدا کیں۔فلاں گاؤں میں اس نے پودا لگایا، فلاں گاؤں میں اس نے پودا لگایا، فلاں گاؤں میں اس نے پودا لگایا۔فلاں گرجے پھر مسجدوں میں تبدیل ہوئے۔اور یہ فلاں مجاہد کے کارناموں کے نتیجہ میں ہے۔یہ ہے وہ زندگی ہمیشگی کی زندگی جس کی طرف سپین آپ کو بلا رہا ہے۔اس لئے اس کی طرف توجہ کریں اور اللہ پر توکل رکھیں اور دعائیں کریں اور پھر آپ دیکھیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ روز روز رنگ بدلنے شروع ہو جائیں گے۔217