تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 199

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 27 ستمبر 1985ء خیر وہاں ان سے ملاقات ہوئی۔سرسری ملاقات کا خیال تھا لیکن اچھا خاصا گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ ان کے ساتھ پھر ب گفتگو ہوئی۔اور انہوں نے بتایا کہ ہمارے اندر پاکستانی ملاؤں نے اور بعض دوسرے لوگوں نے آپ کے خلاف انتناز ہر بھرا ہوا ہے کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ کس قسم کا لٹریچر ہم تک یہ پہنچاتے ہیں اور یک طرفہ باتیں سن سن کے ہم تو آپ سے شدید متنفر ہیں۔اور اب جو دیکھا ہے، ہمیں کچھ اور بات نظر آئی۔اب ہمیں دلچسپی پیدا ہوئی کہ ہم پوچھیں تو سہی یہ کون ہیں؟ کیا بات ہے؟ چنانچہ اسی مجلس میں وفات مسیح کے متعلق سارے کے سارے قائل ہو گئے، ایک نے بھی انکار نہیں کیا۔اور خاتم النبیین کے متعلق جماعت احمدیہ کی تشریح پر جب گفتگو ہوئی تو ایک دوست تھے، جنہوں نے کہا کہ ابھی میں تحقیق مزید کرنی چاہتا ہوں۔اور چار دوسرے دوست تھے، جنہوں نے تائید میں سر ہلانا شروع کر دیا کہ ہاں یہ مسئلہ ہمیں سمجھ آرہا ہے۔اور وہ جو دوست تھے، جن کا میں ذکر کر رہا ہوں، ان کے نام پتے میں نہیں بتانا چاہتا، حکمت کے خلاف ہے۔مگر یہ اپنے علاقوں کے اچھے معزز لوگ ہیں۔اور اتنی گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے کہ اپنے اپنے دیتے ہیں اور یہ وعدہ کیا ہے کہ ہم جولٹ پھر بھیجیں گے، سب کا مطالعہ کریں گے پیسٹس سنیں گے اور پھر اگر کوئی سوال ہمارے دل میں پیدا ہوا تو پھر لکھیں گے کہ اس بارے میں ہماری تسلی نہیں ہوئی۔تا کہ آپ کو موقع دے سکیں تسلی کرانے کا۔اور ایک صاحب ان میں سے، جو اوپر ہمارے مردانہ کمرہ تھا، اس میں تشریف لائے ، ساتھ کھانا بھی کھایا اور پھر اس کے بعد محبت پیار کے رنگ میں اظہار کرتے رہے۔تو جس جس جگہ یہ زمین تنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہاں وہاں خدا نہیں زمینیں عطا فرما رہا ہے۔عربوں کو ہم سے دور کرنے کی بڑی شدید کوشش کی گئی تھی ، جیسا کہ انہوں نے ہی ہمیں بتایا۔اس کے علاوہ بھی بعض دوسرے عرب دوست، جو بیعتیں کرتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے بڑی شدید نفرت پیدا کر رکھی ہے۔آپ لوگوں کے خلاف اتنا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ وہ یک طرفہ سن سن کر ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کا دین ہی کچھ اور ہے۔اور انہی لوگوں میں سے خدا تعالیٰ اب یہ از خود پھل عطا کر رہا ہے۔ان کے علاقوں میں پہلے احمدیوں پر ظلم ہوا کرتے تھے، جن کا میں ذکر کر رہا ہوں۔اب میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ ان کے رویے بالکل بدل جائیں گے۔جس خدا کا یہ وعدہ ہے کہ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ اس کی زمین نہ صرف وسعت پذیر ہے بلکہ ہر جہت میں وسعت پذیر ہے۔اس کی وسعتوں کا آپ اندازہ کر ہی نہیں سکتے۔کیونکہ ظاہری طور پر زمین بھی وسعت پذیر ہے، روحانی طور پر جماعت کے 199