تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 198

خطبہ جمعہ فرموده 27 ستمبر 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم یہاں آنے سے روکیں؟ ہم ضرور آئیں گے۔آپ ہوتے کون ہیں ہمیں روکنے والے؟ یا تو اپنے چرچ بند کریں ساری دنیا سے اور Pack کر کے اکٹھے ہو جائیں۔ہم پر آپ کو اعتراض کا کیا حق ہے؟ اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جرمن قوم یا اس علاقے کے لوگ مسلمان نہیں ہوں گے۔میں نے کہا کہ آپ کا تو بالکل غلط خیال ہے۔کل رات پہلی دفعہ چند گھنٹوں کی مجلس سوال جواب ہوئی تھی اور وہیں آپ کے علاقے کی جرمن خاتون نے بیعت کی ہے اور ایک عرب نے بیعت کی ہے۔ایک پاکستانی نے یہاں بیعت کی ہے۔تو خدا ہمیں پھل دے چکا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ تمہیں پھل نہیں ملے گا۔بہر حال جس طرح کی شدت اس کی تھی، اسی طرح کی میں نے بھی شدت اختیار کی اور تھوڑی دیر کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے صاحب نرم پڑ گئے اور پھر دلچسپی بھی پیدا ہوگئی۔اور پوچھنے لگے کہ اچھا آپ کا اسلام ہے کیا؟ ہمیں بتا ئیں تو سہی؟ جب میں نے ان کو بتایا کیا فرق ہے، آپ میں اور مسلمانوں میں؟ میں نے بتایا کہ ہمارا فرق مسلمانوں سے ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے دوسرے فرقے اور عیسائی ایک طرف اور ہمارا عقیدہ الگ ایک طرف ہے۔آپ دونوں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو زندہ آسمان پر مان رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ وہ خود آئیں گے۔اور ہم کہتے ہیں کہ کبھی بھی خدا کا کوئی بندہ آسمان پر زندہ نہیں چڑھا، نہ کبھی آسمان سے اترا ہے۔یہ روحانی محاورے ہوتے ہیں، جن کو وہ نہیں سمجھ سکتے۔بہر حال اس قسم کی بڑی تفصیل سے جب میں نے یہ باتیں سمجھا ئیں تو کچھ دیر کے بعد کہتا ہے کہ میں آپ کے ساتھ سو فیصدی متفق ہوں۔جو آپ کہہ رہے ہیں، وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔میں نے کہا: ابھی تو تم کہتے تھے کہ یہاں آپ کی بات کوئی نہیں مانے گا۔اور اس خدا نے تمہیں بھی بات ماننے والا بنادیا ہے۔اور تمہارے منہ سے کہلوا دیا ہے کہ میں اب آپ کے ساتھ ہوں۔ہنس پڑا اور کہتا ہے کہ بات یہ ہے کہ میں کیتھولک چرچ کا نمائندہ ہوں۔کیتھولک چرچ کا اخبار ہے، اس کا نمائندہ ہوں، اس لئے میں مجبور ہوں۔آپ کی باتوں سے میں اتفاق کرتا ہوں لیکن میرا اخبار چھاپے گا نہیں، اس لئے میں معذرت خواہ ہوں۔میں نے کہا: مجھے تو صرف اللہ تعالیٰ کے فضل کا یہی نظارہ چاہئے تھا کہ جہاں تم کہہ رہے تھے تکبر سے کہ تم کیا کرنے آئے ، یہاں تمہاری بات کوئی نہیں مانے گا ؟ تمہیں خدا نے منوا کر بتا دیا کہ اس طرح خدا بات منوایا کرتا ہے۔اور صرف یہی نہیں، اسی پریس کا نفرنس کا ایک اور پھل اللہ تعالیٰ نے اس طرح عطا فر ما دیا کہ کچھ عرب شیوخ آئے ہوئے تھے۔جہاں سے گزر کے پریس کانفرنس کے لئے ہم آئے ، وہاں وہ ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے۔واپسی پر میں نے ان کو السلام علیکم کہا اور گزر گیا۔دوبارہ جب ہم ظہر کی نماز کے لئے آئے ہیں تو وہی عرب دوست وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے مجھے پیغام بھجوایا کہ ہم آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔198