تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 3

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطبه جمعه فرموده 04 جنوری 1985ء امر واقعہ یہ ہے کہ رفتار خواہ کتنی بھی تیز ہو، رفتاروں کے ذریعہ دنیا میں انقلاب برپا نہیں ہوا کرتے بلکہ ایکسلا ریشن Acceleration کے ذریعہ انقلاب ہوا کرتے ہیں۔ایکسلا ریشن (Acceleration) کہتے ہیں، ترقی پذیر رفتار کو۔یعنی آج اگر دس میل کی رفتار سے آپ چل رہے ہیں تو کل دس میل کی رفتار سے نہیں بلکہ گذشتہ دس میل جمع اور دس میل یعنی میں میل کی رفتار سے آپ چل رہے ہوں اور اس سے اگلے سال میں میل کی رفتار سے نہیں چلیں بلکہ ہیں + دس میل اور تو اس تدریجی رفتار کو انگریزی میں Acceleration کہتے ہیں۔اور دنیا میں جتنا بھی کارخانہ قدرت چل رہا ہے، اس کی بنیاد خدا تعالیٰ نے Acceleration پر رکھی ہے۔کیونکہ بنیادی طور پر آخری انرجی کی جو صورت ہے، جو Gravitation ہے یعنی زمین کی قوت جاذ بہ یا مادہ کی قوت جاز بہ ، جس کو کشش ثقل بھی کہا جاتا ہے، اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ Acceleration پیدا کرتا ہے۔اور جتنی انرجیز (Energies) کی مختلف شر ہیں، خواہ وہ بجلی ہو یا مقناطیس یا کوئی اور شکل ہو ، وہ بالآخر اسی آخری شکل کی مرہون منت ہیں اور اسی کی بدلی ہوئی مختلف صورتیں ہیں دراصل۔تو جب خدا تعالیٰ نے اپنے نقشے کی بنیاد Acceleration پر رکھی ہے اور ہمیں متوجہ فرمایا ہے کہ تم قانون قدرت پر غور کرو اور اس سے نصیحت پکڑو اور میری سنت کے راز معلوم کرو اور میرے طریق سیکھو تو روحانی دنیا میں بھی نئی عظیم الشان تخلیقات کے لئے نئے نئے کارخانے شکلیں جاری کرنے کے لئے لازم ہے کہ ہم خدا کی اس جاری کردہ سنت پر غور کریں اور اسی کو اپنائیں۔پس آئندہ سال کے لئے اگر یہاں انگلستان میں مثلاً ایک سال میں ساتھ ہوں اور جرمنی میں ایک سودس یا ایک سو ہیں اور ہو جائیں تو یہ تو Stagnation کی علامت ہوگی ہے، ایک مقام پر کھڑے ہو جانے والی بات ہے۔اگر دس داعی الی اللہ یہاں پیدا ہوئے تھے تو اگلے سال کم سے کم نہیں ہونے چاہئیں یا اس سے بھی زیادہ۔اور جرمنی میں اگر پچاس پیدا ہوئے تھے تو اگلے سال سو یا اس سے بھی زیادہ ہونے چاہئیں۔اسی طرح باقی ملکوں کو بھی میں یہی پیغام دیتا ہوں کہ نئے سال میں یہ عہد کریں اپنے رب سے کہ اے خدا! تو نے اپنے فضل سے ہمیں جو تیز رفتاری بخشی ہے، اس تیز رفتاری کو Acceleration میں تبدیل فرما دے، ہمارے ہر کام میں غیر معمولی سرعت ہی نہ ہو بلکہ بڑھتی رہنے والی سرعت عطا ہو، دنیا ہر سال ہمیں ایک نئے دور میں داخل ہوتا دیکھے، تیری راہ میں قدم بڑھانے کی مزید توانائی ہمیں نصیب ہو اور تیری طرف حرکت کے لئے نئے نئے پر ہمیں عطا ہوتے رہیں۔ان دعاؤں کے ساتھ ہمیں نئے سال کا آغاز کرنا چاہیے۔جہاں تک اس تبلیغ کے نتائج کا تعلق ہے اور روحانی طور پر اللہ تعالیٰ نے تقویٰ عطا فر مایا ہے اور اپنی رضا بخشی ہے، ہمیں اس کا تعلق ہے۔اس کے نتیجہ میں ظاہری لحاظ سے کچھ مشکلات بھی دکھائی دیتی 3