تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 109 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 109

تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطبہ جمعہ فرمودہ 19 جولائی 1985ء کروائے کہ آپ دنیا کی تقدیر بدلنے کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔جب تک آپ تبلیغ کے ذریعہ عالمی انقلاب برپا نہیں کر لیتے ، آپ کو لازماً اس دکھ کی زندگی میں سے گزرنا پڑے گا۔اور ہم کوئی چارہ نہیں رہنے دیں گے تمہارے لئے ، کوئی راستہ نہیں چھوڑیں گے تمہارے لئے۔یا ہمیشہ کے لیے دکھوں اور ذلت کی زندگی قبول کر لو یا تبلیغ کرو اور دنیا میں انقلاب برپا کر دو، تیسری راہ ہی کوئی نہیں۔پس یہ ہے جماعت احمدیہ کا منصب اور جماعت احمدیہ کا مقام۔پس اگر دکھ ہیں دنیا میں ، اگر دکھ پہنچانے کی اجازت دے رہا ہے خدا تعالیٰ تو آپ کو یاد دہانی کرواتا ہے۔اور ہر دفعہ جب یہ صورت حال پیدا ہوتی ہے تو قرآن کریم آپ کو متنبہ کر رہا ہوتا ہے، ہم نے تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ فرعون نے یہ کہا تھا كه يه لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ ہیں، یہ ہمارے لئے غیظ دلانے والے ہیں۔تو جب تک تم تھوڑے ہو تم غیظ دلاتے رہو گے۔تمہارا تھوڑا ہونا تمہارا کمزور ہونا ہی غیظ کا موجب ہے۔ورنہ تم میں قصور کوئی نہیں ہے۔جو قصور دشمن کو نظر آرہا ہے، وہ تو یہی ہے۔تو اس قصور کو درست کرو۔اور وہ تبلیغ کے سوا درست نہیں ہوسکتا۔اس لیے ایک ہی راہ ہے ہمارے لئے ، جو احمدی جہاں تک بس پاتا ہے، جہاں تک اس کی پیش جاتی ہے، اپنے گرد و پیش، اپنے ماحول میں، ہر جگہ انقلابی رنگ میں ایک وقف کی صورت میں تبلیغ شروع کر دے۔تب وہ اپنی غیرت کے اظہار میں سچا ہو گا۔تب وہ کہہ سکے گا خدا سے کہ اے خدا! اب تو ہمیں ان کے دکھ سے بچا۔تیری خاطر جو کچھ ہم سے ہوسکتا تھا، وہ ہم کر رہے ہیں۔جس کی تو نے اجازت نہیں دی تھی ، وہ ہم نہیں کر رہے۔اب تو ہمیں اس دل آزاری سے محفوظ رکھ۔پھر خدا دیکھیں کس طرح آپ کی تبلیغ میں برکت دیتا ہے۔کس طرح آپ کے کمزور بھی ان کے بڑے بڑے طاقتوروں پر غالب آجائیں گے۔آپ کے جاہل بھی ان میں سے بڑے بڑے عالموں کے منہ بند کر دیں گے۔ایک نیا مضمون تبلیغ کا آپ کے لیے ظاہر ہوگا۔زمین بھی آپ کے لیے نرم کر دی جائے گی اور آسمان بھی آپ پر رحمتوں کی بارش برسائے گا۔اور ایسی نشو و نما ہوگی آپ کی تبلیغ میں کہ دشمن کے لیے سوائے حسد میں جل جانے کے اور کچھ نہیں باقی رہے گا۔آپ دن کو بھی پھولیں گے اور پھلیں گے اور رات کو بھی پھولیں گے اور پھلیں گے۔اور صبح کو بھی پھولیں اور پھلیں گے اور شام کو بھی پھولیں گے اور پھلیں گے۔کوئی نہیں، جو آپ کی نشو و نما کو روک سکے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔اور خدا کرے آپ اپنے منصب اور مقام کو سمجھنے والے ہوں“۔(مطبوعہ خطبات طاہر جلد 14 صفحہ 627 تا 640 109