تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 104 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 104

خطبہ جمعہ فرمودہ 19 جولائی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم جہاں یہ سب کچھ ہو رہا ہے، وہاں بعض واقعات ایسے بھی ملتے ہیں کہ ایک پر امن جگہ ہے، جہاں کوئی مخالفت نہیں، امریکہ میں مثلاً بعض علاقوں میں، اور وہاں مبلغ نے کثرت کے ساتھ لٹریچر تقسیم کرنا شروع کر دیا اور پتے ڈھونڈے اور ان پتہ جات پر لٹریچر بذریعہ ڈاک بھجوایا۔اور اس سے پہلے اس کو متنبہ کر دیا گیا کہ دیکھو، ایسی حرکت نہ کرو، یہ امن برباد ہو جائے گا، شدید مخالفت ہو گی۔اور پھر جب مخالفت ہوئی، جیسا کہ ہونی تھی تو پھر مبلغ کو مطعون کیا گیا کہ دیکھا، ہم کہتے نہیں تھے کہ مخالفت ہو گی۔کہتے تو تھے لیکن اس طرح کہتے تھے، جس طرح فرشتے نبوت کے بعد خدا کو کہتے کہ کیوں خدا ہم کہتے نہیں تھے کہ فساد ہوگا ؟ تم کیا کہتے ہو؟ یہ کیا کہتے تھے کہ تمہاری پیشگوئی کیا حقیقت رکھتی ہے، جو چند دن کی پیشگوئی ہے۔قرآن کریم تو وہ پیشگوئی بیان فرمارہا ہے، جو تخلیق کا ئنات سے پہلے کی ایک پیشگوئی ہے۔اس وقت بھی تو فرشتوں نے یہی کہا تھا کہ اے خدا! اگر رسول بھیجے گا یعنی پیغمبر تبلیغ کرنے والا تو فساد برپا ہوگا۔پس کیا ان کا حق نہیں تھا کہ وہ خدا کو کہتے کہ کیوں ہم نہیں کہتے تھے ؟ یہ ہم نہ کہتے تھے کی جو کھیل ہے، یہ مذہب کے معاملات میں نہیں چل سکتی۔یہ تو وہاں چلتی ہے، جہاں نادانی کی باتیں ہوں، جہاں غفلت کی حالت میں غلط انداز سے لگا کر کوئی فعل کیا جائے۔اور ایک متنبہ کرنے والا پہلے متنبہ کر چکا ہو لیکن اگر خطرات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کوئی قدم اٹھایا ہو، علم ہو کہ کیا نتیجہ نکلے گا تو پھر دوسرے کا یہ حق نہیں رہا کرتا کہ ہم نہیں کہتے تھے۔پس تبلیغ کا معاملہ اس دنیا سے تعلق رکھتا ہے، جہاں سب کچھ پہلے سے علم ہے۔اور علم ہونا چاہئے کہ یہ ہو گا۔پھر آپ اس میدان میں قدم رکھتے ہیں۔پھر دوسرے یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ کہے، کیوں جی ہم نہیں کہتے تھے کہ یہ ہوگا۔اب کہتے ہیں تم کیا کہتے تھے ؟ ہم بھی یہی کہتے تھے ، ہمارے باپ دادا بھی یہی کہتے آئے ہیں، آدم بھی یہی کہتے تھے اور آدم کی پیدائش سے پہلے فرشتے بھی یہی کہا کرتے تھے۔تم ہمیں کیا نئی بات بتاتے ہو؟ یہ دراصل لاعلمی کی بات ہے۔حقیقت میں فساد کی ذمہ داری کا انتقال دو طرح سے قرآن کریم میں ملتا ہے۔ایک تو تکبر اور فرعونیت کے نتیجہ میں ماریں گے ہم، ذمہ دار تم ہو، یہ ہے وہ اعلان اور یہ اعلان کرنے والے تو خدا کی نظر میں شدید مجرم ٹھہرتے ہیں لیکن کچھ معصوم لوگ بھی ہیں، چنانچہ فرشتہ صورت ان کو دکھایا گیا ہے۔پس یہ جو احمدی ہیں بیچارے، یہ فرشتوں کی ذیل میں آتے ہیں کہ معصومیت اور لاعلمی کی بناء پر یہ بات کر رہے ہیں۔میں ان کو قصور وار نہیں سمجھتا۔لیکن کہتے غلط ہیں بہر حال۔اور اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ کیوں جی ہم نے متنبہ کر دیا تھا تو ان کی تو پھر مثال ویسی ہی ہے، جیسے پنجابی کی کہاوت میں کہتے ہیں کہ ایک طوطا با وجود اس تنبیہ کے کہ اس نگری میں نہ جانا، وہاں پکڑے جاؤ 104