تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 99
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ط خطبہ جمعہ فرمودہ 19 جولائی 1985ء وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّى جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا اَ تَجْعَلُ فِيهَا مَنْ تُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِمَاء وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إلى أَعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُونَ۔(البقرة:31) یہ اس وقت سے سوال اٹھا ہوا ہے، جب یہ انسان پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔جب خدا نے دنیا میں خلیفہ یعنی نبی بنانے کا فیصلہ کیا اور سلسلہ انبیاء جاری کرنے کا فیصلہ فرمایا تو ملائکہ تو متکبر نہیں تھے ، ملائکہ میں تو کوئی فرعونیت نہیں تھی۔لیکن اپنی لاعلمی میں ظاہری صورت میں وہ بھی اس اشتباہ میں مبتلا ہو گئے ، انہوں نے سمجھا کہ اگر وہ جا کر نیا World Order پیدا کرے گا، انقلابی باتیں کرے گا ، دلائل کے ساتھ پرانے رسم و رواج کو توڑ کر ایک نیا زمین و آسمان پیدا کرے گا تو ایسی صورت میں لوگ لازماً مخالفت کریں گے۔اور فساد پھیل جائے گا۔لیکن اپنی غلطی سے اور لاعلمی میں انہوں نے بھی فساد کی ذمہ داری گویا آدم پر ڈال دی اور خلیفہ اللہ پر ڈال دی۔اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے صرف اتنا فرمایا:۔إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ میں زیادہ جانتا ہوں تمہیں کیا پتہ؟ اب بظاہر اس بات میں بڑی تحدی تو ہے مگر دلیل کوئی نہیں۔کوئی آپ سے گفتگو کر رہا ہے دلیل کے ساتھ ، آپ کہیں مجھے زیادہ پتہ ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس میں کچھ ناراضگی کا اظہار ہے۔اس طرز کلام میں۔اور کچھ یہ بتانا مقصود ہے کہ تم ذمہ داری غلط ڈال رہے ہو۔اگر غور کرو تو خود اس نتیجے تک پہنچ سکتے ہو، کسی ایسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے، جس کا تمہیں علم ہو نہ سکتا ہو، جس تک تمہاری رسائی نہ ہو، تھوڑا سا تدبر کرو، اپنے مقام کو دیکھو، مزید غور کرو تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ فساد تو ہو گا لیکن ذمہ داری میرے خلیفہ پر نہیں ہوگی، ذمہ داری دوسروں پر ہوگی۔اب ذمہ داری کے لحاظ سے کئی قسم کے احتمالات سامنے آتے ہیں۔تبلیغ اگر غلط طریقے سے کی جائے تو اس کے نتیجہ میں فساد ہو سکتا ہے۔دل آزاری کی باتیں کی جائیں اور نا واجب ایسے دبا ؤ اختیار کئے جائیں کہ جس کے نتیجہ میں لوگ مجبور ہو جا ئیں مذہب تبدیل کرنے پر مثلاً پیسے دے کر، عورتوں کا لالچ دے کر، جس طرح بعض قو میں کرتی ہیں، نوکریوں کا لالچ دے کر اور دنیاوی اثرات استعمال کر کے اگر تبلیغ کی جائے تو لازماً اس کے نتیجہ میں یقینا فساد بھی ہوگا اور فساد کی ذمہ داری تبلیغ کرنے والوں پر ہوگی۔اس 99