تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 98 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 98

خطبہ جمعہ فرمودہ 19 جولائی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم ساتھ اللہ تعالیٰ کی اس امانت کا حق ادا فرماتے رہے، تو آپ کو مخاطب کر کے کیوں ایسا کہا گیا ہے؟ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ بیان کیا تھا کہ یہاں در اصل امت محمدیہ کو متنبہ کرنا مقصود ہے۔مخاطب حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور تنبیہ امت کو کی جارہی ہے۔یہ طرز کلام عام دنیا میں بھی اختیار کی جاتی ہے اور خود اقدس حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اختیار فرمائی۔جب یہ کہا کہ میری بیٹی اگر چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔کوئی دور کا بھی احتمال نہیں تھا، حضرت سیدہ فاطمتہ الزھراء کا چوری کرنے کا۔جو خاتون جنت ہیں، جو تمام خواتین میں افضل، ان کے متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں کہ یہ چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔تو یہ احتمالات ایسے نہیں ہیں ، جو ہو سکتے ہیں۔یہ ایک محاورہ کلام ہے۔مراد یہ ہوتی ہے کہ جو میرے سب سے زیادہ قریبی ہے، جس سے بڑھ کر کوئی وجود نظر نہیں آسکتا تمہیں، وہ بھی اگر رعایت کا مستحق نہیں تو تم جواد نی ہو تم کیسے رعایت کے مستحق ہوگے؟ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب فرما کر تبلیغ کی فرضیت کو امت محمدیہ پر ظاہر کرنے کا اس سے زیادہ اور کوئی قوی اور سخت ذریعہ ممکن نہیں تھا۔تنبیہ ساری امت کو کی جارہی ہے۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کو کی جارہی ہے۔ایک طرف یہ آواز اٹھ رہی ہے اور دوسری طرف قرآن ہمیں فرعون کی آواز بھی سنا رہا ہے، جو یہ کہتی سنائی دیتی ہے وہ آواز اِنّى أَخَافُ أَنْ تُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ (المؤمن : 27) کہ یہ تبلیغ کا کیا قصہ شروع کر دیا ان لوگوں نے۔مجھے تو ڈر یہ ہے کہ جس انہماک کے ساتھ ، جس شدت کے ساتھ ، جس قوت کے ساتھ یہ لوگ تبلیغ کا کام کر رہے ہیں یا تو تمہارا مذہب تبدیل کر دیں گے، ایسے آثار نظر آ رہے تھے حضرت موسیٰ کی تبلیغ میں فرعون کو کہ اس کو پتہ لگ گیا تھا کہ اس شدت کے ساتھ ، اس حکمت کے ساتھ ، اس گہری تاثیر کے ساتھ جب قوم کو پیغام پہنچایا جائے گا تو وہ لازما قبول کر لیں گے۔تو اس نے کہا: یا تو یہ تمہارا مذہب تبدیل کر دیں گے اور یا پھر سارے ملک میں فساد پھیل جائے گا۔مطلب یہ تھا کہ مذہب تو ہم تبدیل نہیں ہونے دیں گے، یہ دوسری بات ہوگی تبلیغ کے نتیجہ میں فساد بر پا ہوگا۔یہ تو فرعون کی بات ہے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تبلیغ کا فساد کے ساتھ کوئی تعلق ہے ضرور۔کیونکہ جب زمین و آسمان ابھی پیدا بھی نہیں کئے گئے ، جب کہ آدم کی تخلیق کا سوال زیر غور تھا، اس وقت قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے:۔98