تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 950
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 نومبر 1984ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک نماز کی خاطر اٹھ کر کھڑے ہوئے اور میں ان کی طرف بڑھنے لگا کہ پوچھوں چوہدری صاحب آپ کہ گئے ، آپ تو بیمار تھے؟ اچانک کیسے آنا ہوا ؟ تو وہ نظارہ جاتا رہا۔آنکھیں کھلی تھیں اور جو منظر سا سامنے ویسے تھا ، وہ سامنے آگیا۔تو اللہ تعالیٰ ایسی خوشخبریاں بھی عطا فرمارہا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی نصرت اور اس کے ظفر کے وعدے انشاء اللہ تعالیٰ جلد پورے ہوں گے۔تو یہ باتیں ان کے علاوہ ہیں۔جماعت تو ہر حال میں ترقی کر ہی رہی ہے۔جتنا خدا انتظار کروائے، ہم کریں گے، انشاء اللہ۔کیونکہ ہم کو کچھ نہیں رہے، ہمارے ہاتھ سے جا کچھ نہیں رہا۔ایک دیکھ ہے اللہ کے لئے ، جو ہمیں پہلے سے زیادہ اور آگے بڑھاتا چلا جارہا ہے۔اس لئے نقصان کا کوئی سودا تو ہے ہی نہیں۔میں اس لئے تسلی نہیں دے رہا۔مگر میں یہ بتا رہا ہوں کہ اللہ کے رنگ عجیب ہیں۔وہ بظاہر قربانی لیتا ہے اور حقیقت میں وہ ترقی ہورہی ہوتی ہے۔اور پھر اس مزے اس روحانی لذت کے بھی بدلے عطا فرماتا ہے۔یہ وعدے ہیں خدا کے، جن کی طرف میں آپ کو توجہ دلا رہا ہوں۔چنانچہ اس کشفی نظارہ کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے ایک اور کرم یہ فرمایا : جن دنوں پاکستان کے حالات کی وجہ سے بعض شدید کرب میں راتیں گزریں تو صبح کے وقت الہا ما بڑی شوکت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: السلام علیکم۔اور ایسی پیاری، ایسی روشن، پکھلی آواز تھی اور آواز مرزا مظفر احمد کی معلوم ہو رہی تھی۔یعنی بظاہر جو میں نے سنی آواز اور یوں لگ رہا تھا، جیسے وہ میرے کمرے کی طرف آتے ہوئے، السلام علیکم کہتے ہوئے ، باہر سے ہی شروع کر دیا، السلام علیکم کہنا۔اور اندر داخل ہونے سے پہلے السلام علیکم کہتے ہوئے آنے والے ہیں۔تو اس وقت تو خیال بھی نہیں تھا کہ یہ الہامی کیفیت ہے۔کیونکہ میں جاگا ہوا تھا پوری طرح۔لیکن جو ماحول تھا اس وقت، اس سے تعلق کٹ گیا یا۔چنانچہ فور امیر ارد عمل ہوا کہ میں اٹھ کر باہر جا کر ملوں ان کو اور اسی وقت وہ کیفیت جو تھی، وہ ختم ہوئی۔اور مجھے پتہ چلا کہ یہ تو خدا تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ السلام علیکم کا وعدہ دیا ہے بلکہ ظفر کا وعدہ بھی ساتھ عطا فر ما دیا ہے۔کیونکہ مظفر کی آواز میں السلام علیکم پہنچانا، یہ ایک بہت بڑی اور دوہری خوشخبری ہے۔اور پہلے بھی ظفر اللہ خاں ہی خدا تعالیٰ نے دکھائے اور دونوں میں ظفر ایک قدر مشترک ہے۔تو اس لئے میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں، یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ علم کی آگ بھڑ کا نا بند کردیں گے۔ابراہیم علیہ السلام کے مخالفین نے ظلم کی آگ بھڑ کانی بندتو نہیں کی تھی۔بھڑ کانے کے نتیجہ میں خدا نے فرمایا تھا۔ينَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَّا عَلَى إِبْرَاهِيمَ (الانبياء: 70) 950