تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 943 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 943

تحریک جدید -- ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 نومبر 1984ء میں نے احمدیت کی کتابیں پڑھنی شروع کیں اور اب تو جہاں موقع ملتا ہے تبلیغ کی بھی کوشش کرتا ہوں۔میری اس تبدیلی کو دیکھ کر دوست احباب حیران ہو جاتے ہیں کہ اسے کیا ہو گیا ہے؟ تو یہ ایک انعام ہے، جو اللہ تعالیٰ عطا کر رہا ہے، جماعت کو۔اور کثرت سے عطا کر رہا ہے۔چھوٹے چھوٹے بچے ولی بن رہے ہیں اور خدا کی راہ میں آنسو بہانے لگے ہیں۔ایک صاحب لکھتے ہیں کہ بعض اوقات تو بڑے رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آتے ہیں، جب ہم خطبات کی کیسٹس (Cassettes سنتے ہیں تو دوست اتنا روتے ہیں، اتنا روتے ہیں کہ بعض دفعہ برداشت نہیں ہوتا تو اونچی آوازوں سے رونا شروع کر دیتے ہیں۔وہ دوست، جن کو کبھی نمازوں میں ست دیکھا جاتا ، وہ بھی اب عبادت کے وقت زار و قطار آنسو بہانے لگتے ہیں۔سمجھ نہیں آتی کہ اتنی جلدی ، چند ماہ میں یہ حیرت انگیز تبدیلی پیدا کیسے ہوگی؟ جہاں تک چندوں کا تعلق ہے، اس کثرت سے خطوط ہیں، حیرت انگیز قربانیوں کے کہ ناممکن ہے کہ میں آپ کو بتا سکوں۔وہ محفوظ کئے جارہے ہیں اور انشاء اللہ تعالی آئندہ زمانے کے لئے یہ تاریخ محفوظ کی جائے گی۔ایسے عجیب خدا تعالٰی نے دلوں کے اوپر تصرفات فرمائے ہیں اور ایسی ایسی ہمتیں عطا کی ہیں، قربانی کے لئے ایسا جوش پیدا کیا ہے، ایسی لذتیں عطا کی ہیں، قربانی کرنے والوں کو کہ یہ تو اب ٹھہرنے والا قصہ ہی نہیں ہے، یہ تو میں روکتا ہوں تو رکتے نہیں ہیں۔بعض دفعہ میں واپس کرتا ہوں کہ یہ تمہاری طاقت سے بڑھ کر ہے منتیں کر کے دوبارہ دیتے ہیں۔کئی دفعہ ایسا ہوا، ایک دفعہ نہیں ہوا۔ایک نوجوان سے میں نے کہا کہ یہ تمہاری ساری عمر کی کمائی ہے۔علم ہے، میں یقین دلاتا ہوں کہ خدا کی راہ میں یہ منظور ہو گئی ہے اور میں یہ تمہیں واپس کر رہا ہوں۔تم بالکل فکر نہ کرو لیکن اتنا حصہ میں تمہارا قبول کرتا ہوں۔اس کی وہ کیفیت ہوئی خط پڑھ کر کہ میری قربانی کو گو یار د کر دیا گیا ہے کہ ایسا روحانی عذاب میں بے چارہ مبتلا ہوا کہ بعد میں یہ مجھے پتہ چلا تو شدید مجھے دکھ پہنچا کہ میں نے کیوں اسے ایسا کہا تھا۔اور آخر اس نے وہ دے کر ہی چھوڑا۔تو بظا ہر جو لوگ محروم رہے ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ اب ایسی روحانی لذتیں عطا کر رہا ہے ، اس کا تصور بھی کوئی دنیا میں نہیں کر سکتا۔ایک غریب عورت نے یہ لکھا کہ جب میں نے دیکھا اپنی بہنوں کو قربانی کرتے ہوئے ، ہر طرف تو اس قدر مجھے شدید تکلیف تھی کہ میں کیا کروں؟ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔کہتی ہیں: اچانک مجھے خیال آیا کہ یہ جو گائے میں نے لی ہے، بچوں کو دودھ پلانے کے لئے، یہ تو ہے۔تمہارے پاس اگر تمہیں اس گائے سے محبت ہے اور دل میں خواہش قربانی کی زیادہ ہے تو پھر اس گائے کو پیش کر دو۔چنانچہ 943