تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 83

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک روایات کے مطابق اپنے حقوق سے بھی آگاہ ہونا چاہئے اور نظام میں اپنے سے بالا افراد کے حقوق سے بھی۔یہاں میں نے بالا افراد کا لفظ بولا ہے۔میری مراد اس سے انتظامی طور پر بالا افراد سے ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں تو بعض افراد انتظامی طور پر بالا افراد سے کہیں زیادہ بلند ہوں گے۔کیونکہ یہ تو دل اللہ تعالیٰ کے خوف اور تقویٰ کا معاملہ ہے کہ کون در اصل بلند مقام پر فائز ہے؟ تو میں صرف انتظامی طور پر بالا افراد کا ذکر کر رہا ہوں۔اب میں یہاں پر بعض حقوق کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔اول یہ کہ اگر کسی امیر نے غلطی سے آپ کو کوئی غلط حکم دے دیا ہے اور اگر وہ حکم قرآنی تعلیمات کے منافی نہیں، آپ کو اس کی اطاعت کرنی ہے۔جیسا میں نے واضح کر دیا ہے، اگر وہ حکم قرآن کریم کی تعلیمات کے منافی نہیں تو پھر آپ پر اطاعت فرض ہے۔اور اگر کسی آیت قرآنی کی تفسیر میں اختلاف بھی ہو، تب بھی آپ نے بات ماننی ہے۔کیونکہ یہ آپ کا کام نہیں کہ اس کی تاویل ڈھونڈ کر امیر کی اطاعت نہ کرنے کا بہانہ تلاش کریں۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر کی اطاعت پر اتنا زور دیا ہے کہ لوگ تعجب کرتے تھے۔کسی نے دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا اگر کوئی شخص ایسا ایسا ہو تو کیا پھر بھی ہم اس کی اطاعت کریں؟ آپ نے فرمایا: ہاں پھر بھی۔اگر کوئی شخص ایسا ہو، تب بھی ہمیں اس کی اطاعت کرنی ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک ارشاد فرمایا کہ اگر ایک حبشی غلام، جس کا سر منقہ کے دانے برابر ہو اور وہ تمہارے او پر مقرر ہو جائے ، جب بھی تم نے اس کی اطاعت کرنی ہے۔اب یہ وہ کمزوریاں تھیں، جو عرب ذہن کو مشتعل کرتی تھیں۔عرب ذہن اس بات کے ماننے کو تیار نہیں تھا کہ وہ کسی عجمی کی اطاعت کرے۔اور پھر ایسا شخص جو افریقہ کے سیاہ فام باشندوں کی سرزمین سے تعلق رکھتا ہو۔اس زمانہ کے عرب اس طرح کے لوگوں کی اطاعت کو خاص اپنی بے عزتی سمجھتے تھے۔اس پر مستزاد یہ کہ وہ غلام بھی ہو۔ایک حبشی اور اوپر سے غلام، دوباتیں اکٹھی ہو کر عربوں کے لئے انہیں اپنا راہنما مانا بہت مشکل تھا۔پھر بڑے سر قیادت اور عقلمندی کی نشانی تھے اور عرب بڑے سر ہونے پر فخر کرتے تھے کہ یہ عقل و دانش کی نشانی ہے۔اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ جتنا سر چھوٹا ہوگا، اتناہی وہ شخص احمق اور بے وقوف ہوگا۔اگر چھوٹا سر ہے تو زیادہ احمق ہو گا۔چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں کمزوریاں جمع فرما دیں اور فرمایا کہ اگر وہ ایک حبشی غلام ہو، جس کا سر بھی اتنا چھوٹا ہو کہ محسوس ہو کہ اس کا دماغ ہی نہیں ہے، تب بھی اگر وہ امیر مقرر ہو جائے تو اس کی اطاعت کرو۔( صحیح بخاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعة الامام مالم تکن معصیة ) 83