تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 910
اقتباس از خطبه جمعه فرمود: 10 اگست 1984ء تحریک جدید - ایک الہلی تحریک جلد ششم اطلاع ملے۔کیونکہ ان کا حق ہے کہ وہ قربانی کے میدان میں آگے رہیں اور قادیان کا نام جس طرح اس کو زمانے میں خواتین نے اونچا کیا تھا، آج پھر اسے اونچا کریں۔تو الحمد للہ کہ وہاں کی رپورٹ بھی موصول ہوئی ہے۔صدر لجنہ اماءاللہ بھارت اطلاع دیتی ہے کہ میں نے قادیان کی لجنہ اور ناصرات کے وعدے نئے مراکز کے لئے حضور کی خدمت میں 16 جولائی کو لکھے تھے۔حضور کے خطبات نے ایک تڑپ یہاں کی عورتوں میں پیدا کر دی اور محض اللہ کے فضل سے جو کچھ ان کے پاس تھا، انہوں نے پیش کر دیا ہے۔لیکن پیاس ہے کہ ابھی نہیں بھی، اتنی شدید تڑپ ابھی ہے کہ اور ہو تو خدا کے کاموں کے لئے اور بھی پیش کر دیں۔چھوٹی چھوٹی بچیوں نے اپنی کجیاں ، جن میں پانچ پانچ ، دس دس پیسے کر کے کچھ جمع کیا تھا، تو ڑ تو ڑ کر جو کچھ نکلا، اللہ کے حضور پیش کر دیا۔اللہ تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے کہ اس وقت تک قادیان کی عورتوں اور بچیوں کا وعدہ زیور کی قیمت لگا کر اور نقدی ملا کر چھیالیس ہزار نوسو، تیرہ روپے اور ادائیگی چھتیں ہزار، آٹھ سو، چونسٹھ روپے ہو چکی ہے۔لیکن قادیان کی لجنہ کی شدید خواہش ہے کہ حضور دعا کریں، اللہ تعالی محض اپنے فضل سے نہیں اور دے اور ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم مزید اس مد میں ادا کرسکیں۔ایک عورت لکھتی ہیں کہ میں نے جب یہ تحریک سنی، بڑا دردناک خط ہے کہ میرے دل کی کیا حالت ہوئی۔میں نے جب سنا کہ عورتوں نے یہ قربانی کی اور زیوروں کے سیٹ اتارا تار کر دیئے تو دل کی جو کیفیت تھی ، وہ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔میرے آقا! میرے پاس کوئی زیور، کوئی جائیداد نہیں۔ہم غریب طبقے کے لوگ ہیں۔لیکن میرے پاس تین لڑکے ہیں، میں اپنا ایک بیٹا قربانی کے لئے دینا چاہتی ہوں، اسے قبول فرمائیں۔ایک خاتون لکھتی ہیں کہ جب میں نے سنا کہ ہمیں بھی اجازت مل گئی ہے تو میرا دل خوشی سے بھر گیا۔میرا ساراز یور آج سے چھ سال قبل چوری ہو گیا تھا، ایک نیکلس ہاراس بکس میں پڑا ہوا ہے، جو چوروں کی نظر سے بچ گیا تھا۔اس ہار کو میں آقا کے حضور اس تحریک میں پیش کرتی ہوں۔سید وہ جماعت ہے، جس کو مٹانے کا بعض بدقسمت لوگ منصوبہ بنارہے ہیں۔بڑی بدبختی ہے کہ جو یہ خلاصہ ہوں کا ئنات کا، جن سے انسانیت کی اقدار زندہ ہوں، جو گزشتہ مذہبی تاریخوں کو کہانیوں سے نکال کر عمل کی دنیا میں ڈھال دیں، ان کو برباد کرنے کے در پر ہو جائے دنیا۔اس سے زیادہ بدم ہ بد قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے؟ خطبات طاہر جلد 3 ، صفحہ 427 تا 442) 910