تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 880
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 مئی 1984ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک مشن اس وقت تک وہاں نئے پروگرام کے مطابق لئے جاچکے ہیں اور وسیع زمین خریدی جا چکی ہے۔ایک جگہ عمارت خریدی گئی ہے۔تو انشاء اللہ تعالیٰ بہت جلد وہاں اس کام کو بڑھا دیا جائے گا۔دونئے مراکز یورپ کے لئے بنانے کا پروگرام ہے۔ایک انگلستان میں اور ایک جرمنی میں۔انگلستان کو یورپ میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔اس لئے انگلستان میں بہر حال ایک بہت بڑا مشن چاہئے۔جس ضرورت کو یہ مشن پورا نہیں کر سکتا۔سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، اب تو۔آپ کو عید کی نماز کے لئے بھی مشکل پڑ جاتی ہے، جمعہ کی نماز کے لئے بھی مشکل پڑ جاتی ہے۔روز کی شام کی مجلس کے لئے بھی مشکل پڑ جاتی ہے۔تو یہ مسجد تو کافی نہیں ہے، اس کے لئے۔پھر دفاتر ہیں، کئی قسم کی ضروریات ہیں، جونئی سامنے آئیں گی۔اس لئے ایک انگلستان میں بہت بڑا مرکز قائم کرنا ہے، انشاء اللہ تعالی۔اس کے لئے کمیٹی بٹھا دی گئی ہے۔اور ایک جرمنی میں۔کیونکہ جرمنی کی جماعت بہت مخلص اور تبلیغ میں دن رات منہمک ہے بہت بچارے غریب مزدور پیشہ لوگ ہیں، علم بھی زیادہ نہیں۔پاکستان سے نہایت غریب سوسائٹی سے اکثر تعلق رکھنے والے ہیں۔لیکن ایسا اللہ نے ان کو اخلاص بخشا ہے کہ جب چندے کی ضرورت پڑی تھی تو جرمنی کا مشن بہت سے دوسرے مشنوں کے لئے کفیل بن گیا تھا اور حیرت انگیز قربانی کے مظاہرے انہوں نے کئے تھے۔اب جب تبلیغ کا کہا تو لاعلمی کے باوجود انہوں نے کیسٹس پکڑیں اور ٹپس (Tapes) اٹھا ئیں اور ہر طرف تبلیغ شروع کر دی۔اور خدا کے فضل سے ایک انقلاب آ رہا ہے، جرمنی میں تبلیغی نقطہ نگاہ سے۔تو جرمنی کی جماعت کا حق ہے کہ اسے بہت وسعت دی جائے۔اس لئے ایک مشن وہاں بنانا ہے۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ رو پید اپنے فضل سے مہیا کرے گا۔ایک ہمشیرہ ہیں ہماری ، سعیدہ، جو غالبا عبد اللطیف صاحب ایڈوکیٹ ہیں ان کے رشتہ دار ہیں ) بہر حال سعیدہ بیگم نام ہے۔انہوں نے اس علم سے پہلے ہی کہ میں کیا سکیم پیش کرنے والا ہوں، چھ ہزار کچھ سو پونڈ ، جو ایک لاکھ روپے کے برابر رقم بنتی ہے، از خود مجھے بھجوا دیئے ہیں، چیک کی شکل میں۔اور کہا کہ اس کو جماعت کی نئی ضروریات سامنے آرہی ہیں ، ضرور پیدا ہوں گی ، اس لئے میں ان کے لئے یہ پیش کرتی ہوں۔تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا دے۔انشاء اللہ تعالیٰ روپیہ تو آئے گا، اللہ کے فضل سے۔کبھی یہ ہوا ہی نہیں کہ ضرورت پڑی ہو اور روپیہ مہیا نہ ہو گیا ہو۔اس طرح میں اس تحریک کا آغاز کرتا ہوں اور یہ یورپی ممالک کے لئے ہے۔یعنی یورپین ممالک میں بسنے والے احمدی اس میں حصہ لیں گے۔لیکن فی الحال ہر ملک میں نہیں بلکہ ان دو ممالک میں مراکز قائم کئے جائیں گے، جو سارے یورپ کے لئے ہوں گے۔ان کے مشترکہ کاموں کو سرانجام دیں 880