تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 864 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 864

خطبہ جمعہ فرمودہ 30 مارچ 1984ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ششم گا۔اس لئے عمومی نصیحت کے سوا اور چارہ نہیں ہے، ہمارے پاس۔تو میں نے سوچا کہ چونکہ صد سالہ جو بلی کا دفتر محدود ہے، کام کے مقابل پر، اس لئے میں جماعت کو یاد دہانی کروادوں۔کل وعدہ، جو پاکستان کا تھا ، وہ پانچ کروڑ ، چار لاکھ ، اناسی ہزار روپے (5,04,79000) کا تھا۔جس میں سے 28 فروری 1983 ء تک صرف ایک کروڑ ، اکسٹھ لاکھ (1,61,00,000) کی وصولی ہوئی ہے۔یعنی آئندہ ادائیگی کے چار سال باقی ہیں اور گزشتہ گیارہ سال میں جو وصولی ہوئی ، وہ پانچ کروڑ کے مقابل پر ایک کروڑ ، اکسٹھ لاکھ۔تو اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ چندہ دہندگان کے اوپر بقیہ سالوں میں کتنا بڑا بوجھ پڑنے والا ہے۔جتنی تاخیر کر رہے ہیں، اتنا ہی یہ کام ان کے لئے مشکل ہوتا چلا جائے گا۔لیکن دوران سال جو پاکستان میں وصولی ہوئی ، وہ خدا کے فضل سے بہت خوش کن ہے، گزشتہ وصولیوں کے مقابل پر۔چنانچہ چھپن لاکھ ، اکیاسی ہزار (56,81,000) وصولی کی وجہ سے اب دو کروڑ ، اٹھارہ لاکھ بستر ہزار (2,18,77,000) وصولی ہو چکی ہے۔اور یہ آپ گیارہ سال کی وصولی سمجھیں۔اس کے مقابل پر اس سال کو شامل کر کے چار سال وصولی کے رہتے ہیں۔کیونکہ 1988 ء میں تو پھر کام اتنا زیادہ ہو چکا ہوگا کہ اس وقت وصولیوں کا انتظار پھر نہیں ہو سکتا۔1984ء کا بقایا ایک سال سمجھ لیں 85ء 86ء اور 87ء۔یہ پورے چار سال ہیں، وصولی کے۔ان سالوں میں دو کروڑ ، چھیاسی لاکھ روپے (2,86,00,000) ابھی جماعت نے ادا کرنا ہے۔جو جماعتوں کو یاد دہانیاں کروائی گئیں تھیں اور ٹارگٹس دیئے گئے تھے، اس کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ربوہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام دنیا کی جماعتوں میں اس قربانی میں اول آیا ہے۔کیونکہ ربوہ کے سپر د جو ٹارگٹ کیا گیا تھا، دسویں مرحلے پر ، وہ تین لاکھ کا تھا۔لیکن ربوہ کی وصولی (13,54,000) روپے ہوئی ہے۔جب کہ اس سے پہلے 83 ء تک کل وصولی گیارہ سال میں نو لاکھ ، اٹھاسی ہزارتھی۔تو اس سے یہ بھی علم ہو گیا کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جماعت کے رزق میں برکت کا ایک ایسا نظام جاری کر دیا ہے کہ جو بظاہر ناممکن نظر آتا ہے، وہ بھی پورا ہو جاتا ہے، توقع سے بہت بڑھ جاتا ہے۔کہاں گیارہ سال میں نو لاکھ ، اٹھاسی ہزار کی وصولی اور کہاں ایک سال میں تیرہ لاکھ، چون ہزار وپے کی وصولی۔بہت بڑا فرق ہے۔لیکن ایک بات باقی شہروں کے حق میں یہ بیان کرنی ضروری ہے کہ بعض باقی بڑے شہروں نے اپنا چندہ بہت زیادہ لکھوایا تھا، اس لئے وہ وصولی میں پیچھے رہ گئے۔ربوہ میں چندہ کی جو توفیق تھی، اس کے مقابل پر صد سالہ جوبلی میں بہت کم چندہ لکھوایا گیا تھا۔مثلاً بجٹ کے لحاظ سے ربوہ، 864