تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 842 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 842

پیغام بر موقع جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ گھانا تحریک جدید - ایک الہی تحریک دیکھتے ؟ کیا اخوت کو وہ نمونہ ہم دکھا رہے ہیں، جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تم ایسے ہو جاؤ، جیسے ایک ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے دو بھائی؟ کیا خدا کا خوف دلوں میں جاگزیں ہو گیا ہے؟ ایسا خوف کہ جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔گر آں چیزے کہ مے بینم غریزاں نیز دیدندے زونیا توبه کردند بچشم زار و خوانبارے کہ وہ چیز ، جو میں دیکھتا ہوں، دوسرے عزیز بھی دیکھیں تو دنیا سے توبہ کرلیں اور خون کے آنسو روئیں۔کیا زہد، خداترسی، تقوی، پرہیز گاری، نرم ولی جیسے اعلیٰ خلق، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس جلسہ کے ذریعہ ہم میں پیدا کرنا چاہتے تھے، وہ ہم میں پیدا ہو گئے ہیں؟ کیا دینی مہمات کے لئے ہم کمر بستہ ہو گئے ہیں؟ کیا ہم نے اس بار کو اٹھانے کے لئے اپنے آپ کو تیار کر لیا ہے، جو ہمارے کندھوں پر رکھا گیا ہے؟ کیا ہم دوسروں کے لئے نیکی میں نمونہ بن گئے ہیں؟ کیا انکساری، تواضع اور راست بازی ہمارا شعار بن چکا ہے؟ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے خدام کو یہ ماٹو دیا تھا کہ: تیری عاجزانہ را ہیں اس کو پسند آئیں" پس عاجزی سے، نمناک آنکھوں سے شکر گزار دل سے آگے بڑھیں اور اس سے دعائیں کرتے ہوئے عمل میں جت جائیں کہ ہمارے خدا کو عاجزی اور انکساری پسند ہے۔متکبر تو خدا سے لڑتا ہے۔اور خدا سے لڑنے والا کب کامیاب ہوتا ہے؟ کبر اور بڑائی خدا کا لباس ہے، عاجز بندوں کو یہ لباس زیب نہیں دیتا۔شہادت القرآن میں مامور زمانہ فرماتے ہیں:۔وو مبارک وہ لوگ جو اپنے تئیں سب سے زیادہ ذلیل اور چھوٹا مجھتے ہیں اور شرم سے بات کرتے ہیں اور غریبوں اور مسکینوں کی عزت کرتے اور عاجزوں کو تعظیم سے پیش آتے ہیں۔اور کبھی شرارت اور تکبر کی وجہ سے ٹھٹھا نہیں کرتے اور اپنے رب اور کریم کو یا درکھتے ہیں اور زمین پر غریبی سے چلتے ہیں۔( شہادت القرآن صفحہ 102 ، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 398) شجر احمدیت کی سرسبز شاخو! اس کے بعد میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ افریقہ میں تبلیغ اسلام چاہتا تبلیغ کی طرف حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خاص وجوہات کی بنا پر توجہ فرمائی تھی۔خدا کی تقدیر ہے کہ 842