تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 791 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 791

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خلاصہ خطاب فرمودہ 28 دسمبر 1983ء اے احمد یو! اپنی ہر کوشش دنیا میں عدل کے قیام کے لئے صرف کر دو خطاب فرمودہ 28 دسمبر 1983ء بر موقع جلسہ سالانہ تشہد اور تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے آیت قرآنی إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَائِ ذِي الْقُرْبى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ کی تلاوت فرمائی۔اس کے بعد حضور نے فرمایا:۔گزشتہ سال میں نے عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی کے مضمون کا آغاز کیا تھا اور گزشتہ سال صرف عدل کے بارے میں بیان کیا تھا۔نے فرمایا:۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے دین کے معاملے میں عدل کا مضمون واضح فرمایا۔حضور قرآن کریم نے ہر قسم کے اکراہ کو مذہب سے بالکل ختم کر دیا ہے اور انسان کو کامل آزادی عطا کی ہے کہ کسی مذہب میں داخل ہونے یا اس سے نکلنے میں کوئی جبر نہیں۔اسلام نے یہ بتا دیا ہے کہ تلوار کے زور سے کبھی دلوں کو جیتا نہیں جاسکتا۔حضور نے فرمایا:۔اگر جبر کا حق کسی کو دنیا میں دیا جاسکتا تو اس کے حقدار صرف اور صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔کیونکہ آپ سب سے بڑے عادل تھے اور آپ ہی تھے، جن کی خاطر یہ کائنات پیدا کی گئی۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہی نہیں دیا گیا اور اللہ نے کہا کہ تیرا کام صرف نصیحت کرنا ہے۔کوئی مانے یا نہ مانے“۔حضور نے تاریخ اسلام کا ایک اہم واقعہ بیان کیا کہ ایک کافر کو ایک صحابی نے جنگ میں جب قتل کرنا چاہا تو عین اس وقت اس کا فر نے کلمہ پڑھ دیا مگر صحابی نے یہ جان کر کہ یہ اپنی جان کے خوف سے کلمہ پڑھ رہا ہے، اس کو قتل کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ساری بات جاننے کے بعد سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: کیا تم نے اس کا سینہ چیر کر دیکھا تھا کہ وہ 791