تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 771
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ششم پیغام بر موقع جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ کیفیا وہی خدا ہے، جو قرآن نے بیان فرمایا ہے۔اور ہمیشہ کی روحانی زندگی والا نبی اور جلال و تقدس کے تخت پر بیٹھنے والا رسول صرف حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جن کے قدموں میں بیٹھنے سے اور جن کی پیروی کرنے سے اور جن سے محبت رکھنے سے انسان اپنے رب کو پا جاتا ہے۔اور اس زندگی میں ہی اس جنت کو حاصل کر لیتا ہے، جس کی خواہش ہر دل میں موجزن ہے۔پس آپ جو خود کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کہتے ہیں اور اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عظیم روحانی خادم اور فرزند کے جانثاروں میں شمار کرتے ہیں۔کیا آپ کو اپنے ان بھائیوں پر رحم نہیں آتا ، جن کی آنکھیں ابھی تک اس نور کو دیکھنے سے معذور ہیں اور جن کے دل اس کیف سے نا آشنا ہیں اور اس لذت سے بے خبر ہیں، جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں بیٹھنے سے اور آپ کو اپنے دل میں بٹھانے سے ملتی ہے؟ اور کیا آپ کا دل اپنے بھائیوں کے لئے درد محسوس نہیں کرتا، جو اپنے پیدا کرنے والے رحمان اور رحیم رب سے دور دنیا اور اس کے اندھیروں میں ٹھوکر میں کھاتے پھر رہے ہیں اور جو اپنے رب کی شناخت سے ملنے والی راحت اور اس کے وصل سے حاصل ہونے والے سرور سے محروم ہیں؟ کیا آپ نہیں چاہتے کہ آپ کے یہ بھائی بھی ان نعمتوں اور ان لذتوں سے بہرہ ور ہوں، جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل ملی ہیں۔کیا آپ کا یہ فرض نہیں ہے کہ آپ اپنے بھائیوں کو بھی اسی گلشن کی طرف بلائیں، جس میں ہر قسم کی راحت اور ہر قسم کا آرام ہے؟ کیا آپ کی یہ ذم داری نہیں ہے کہ آپ تمام دنیا کے لوگوں کو اسلام کی سیدھی اور سچی راہ کی طرف دعوت کریں اور انہیں بتائیں کہ یہ وہ راہ ہے، جس پر چل کر وہ ہر دکھ اور ہر درد اور ہر تکلیف سے نجات پاسکتے ہیں اور اس جنت کو حاصل کر سکتے ہیں، جس کی تمنا ہر دل کو بے قرار رکھتی ہے؟ پس اس موقع پر میں آپ سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔اپنے بھائیوں کے دکھ اور ان کی تکالیف کو اپنے دل میں محسوس کریں۔اور انہیں بد عقیدگی اور دہریت اور ظلمت سے نکالنے کے لئے جدو جہد کریں۔انہیں اس روشنی کی طرف بلانے کے لئے کوشش کریں، جس نے آپ کے دل کو منور اور آپ کی آنکھوں کو روشن کر دیا ہے۔اس پر قانع نہ ہو جائیں کہ آپ نے سیدھے راستے کو اختیار کر لیا ہے۔اور اس بات پر مطمئن نہ ہو جائیں کہ آپ آرام میں آگئے ہیں۔بلکہ اپنے پورے زور اور اپنی پوری قوت کے ساتھ اپنے بھائیوں کو فلاح اور کامیابی کی طرف جانے والے اس راستہ کی طرف بلائیں۔یا درکھیں کہ کوئی خوشی ایسی نہیں، جو تنہا منائی جاسکے۔اور کوئی راحت ایسی نہیں، جس سے اکیلے لطف اٹھایا جا سکے۔پس اپنے بھائیوں کو بھی اس خوشی اور راحت میں حصہ دار بنا ئیں ، جو آپ حاصل کر چکے ہیں۔771