تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 758 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 758

خلاصہ خطاب فرمودہ 24 نومبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک حضور نے فرمایا:۔اس ضمن میں ایک بڑی دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ یہ قوم چالیس ہزار سال پرانی قوم ہونے کا دعوی کرتی ہے۔اور آج دنیا کی کسی اور قوم کا یہ دعوی نہیں۔اور محققین اور تاریخ دان اس دعوئی کو سچا تسلیم کرتے ہیں۔حضور نے اس قوم کی ایک اور اہم بات یہ بتائی کہ یہ غیر ابراہیمی نسل میں سے دنیا کی واحد قوم ہے، جس میں مذہبی فریضے کو طور پر ختنہ کا رواج ہے۔اس کے علاوہ ان کے دوسرے مذہبی طریق اسلام کے بہت قریب ہیں۔مغربی محقق ان کو خوابوں میں بسنے والی قوم کہتے ہیں۔لیکن ان کے لیڈر سے میری جو ملاقات ہوئی ، اس میں اس نے بتایا کہ ہم کو تخلیقی روح وہ خدا کو تخلیقی روح کہتے ہیں) خوابوں کے ذریعے رہنمائی دیتی ہے۔ہمیں مستقبل کی خبریں دیتی ہے۔6¢ آنے والے خطرات سے ہوشیار کرتی ہے۔یہ تصور خوابوں کے اسلامی تصور کے مطابق ہے۔فرمایا:۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں ان کا مذہب سچا تھا اوراللہ تعالیٰ سے لازماً ان کا تعلق رہا ہے۔حضور نے اس ضمن میں مشہور اسلامی مفکر اور مجد د حضرت ابن عربی کا کشف سنایا، جس میں انہوں نے دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں۔انہوں نے طواف کے دوران بعض اجنبی آدمیوں کو دیکھا۔ان آدمیوں نے حضرت ابن عربی کو بتایا کہ وہ چالیس ہزار سال پرانے آدم کی اولاد ہیں۔حضور نے فرمایا:۔"آسٹریلیا کے قدیم باشندے بھی چالیس ہزار سال پرانی قوم ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔اس سے حضور نے یہ استنباط فرمایا کہ اسلام کا اس قوم سے واسطہ ہوتا تھا، اس لئے ایک مجدد کو یہ کشف دکھایا گیا۔حضور نے فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی ایک آسٹریلین شخص ملنے آیا تھا۔اس کے ساتھ گفتگو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ آدم ایک نہیں ہوا بلکہ کئی ہوئے ہیں اور آسٹریلیا اور امریکہ میں جو باشندے آباد ہیں ہممکن ہے، وہ کسی چالیس ہزار سال پرانے آدم کی اولاد ہوں“۔فرمایا کہ یہ ساری باتیں اکٹھی کر کے میں نے ان کا بہت گہری نظر سے جائزہ لیا اور ان قدیم باشندوں کے لیڈر سے ملاقات کی۔تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ سے یہ باتیں کرتے ہوئے ہمارے مذہبی بزرگ کوئی 758