تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 741 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 741

اقتباس از خطاب فرموده 30 اکتوبر 1983ء تحریک جدید -- ایک الہی تحریک وہ ایک قدیم ترین اور مظلوم قوم ہے۔اگر چہ مذہب سے ایک محرومی بھی ہے لیکن خدا نے ان سے پیار کا ایک سلوک بھی کیا ہوا ہے۔اور وہ سلوک یہ ہے کہ جب میں نے ان سے یہ پوچھا کہ آپ کے متعلق مغربی لوگوں نے لکھا ہے کہ آپ کی قوم ایک ڈریمی (Dreamy) قوم ہے، یعنی خوابوں میں بسنے والی ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ ہماری اصطلاح نہیں سمجھتے۔آپ لوگ ہماری باتیں نہیں سمجھ سکتے۔میں نے کہا: نہیں، میں سمجھ جاؤں گا، آپ مجھے بتا ئیں۔تو جو بات انہوں نے بتائی ، وہ بالکل وہی ہے ، جو کچی خوابوں کا تصور اسلام میں پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مغربی لوگ نہیں سمجھتے کہ ہمارا ایک خالق ہے، ایک تخلیقی روح ہے، جس سے ہمارا تعلق جاری وساری ہے۔اور وہ رویا کے ذریعہ ہمیں آئندہ کے حالات بتاتا ہے۔کن باتوں سے بچنا ہے، وہ بھی بتاتا ہے۔جب ہم اس سے منت کرتے ہیں تو وہ ہمیں خوشخبریاں بھی عطا کرتا ہے۔چنانچہ جب مغربی لوگوں کو ان خوابوں کی یہ خبر پہنچتی ہے تو یہ ہے چارے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ڈریخی ان معنوں میں ہیں کہ گویا تصورات کی دنیا میں خواہیں دیکھنے والی قوم ہیں۔حالانکہ ایسا ہر گز نہیں۔یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے اور ہم سب کو علم ہے کہ یہ تعلق ہے۔پھر میں نے جب ان سے پوچھا کہ آپ کو کشوف بھی ہوتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: سب کو نہیں ہوتے۔اور اس بات میں بھی بڑی سچائی تھی۔انہوں نے کہا: خواہیں ہم میں سے ہر آدمی دیکھ لیتا ہے۔جب وہ اپنی تخلیقی روح سے تعلق قائم کرتا ہے تو اسے ایسی باتیں نظر آ جاتی ہیں۔لیکن جہاں تک کشوف کا تعلق ہے، یہ ہمارے Elders یعنی خاص بزرگ لوگوں کو ہوتے ہیں۔وہ دن دھاڑے جاگتے ہوئے آنکھیں کھول کر ایسے نظارے دیکھتے ہیں، جو تخلیقی روح کی طرف سے دکھائے جاتے ہیں اور وہ بالکل اس طرح پورے ہو جاتے ہیں۔پھر میں نے اگلے قدم سے متعلق پوچھا کہ الہام بھی ہوتا ہے؟ میں نے بتایا کہ الہام اس چیز کو کہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں الہام ہمیں نہیں ہوتا، صرف سچی خوابوں تک پہنچے ہیں۔پھر میں نے کہا کہ آپ کے لئے ھدی للمتقین کا قدم ابھی باقی ہے۔حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین میں داخل ہوں گے تو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو خدا روشن ہوا، وہ آپ لوگوں پر روشن ہوگا۔تو میں نے سوچا ان کے لئے بھی روحانیت کی بڑی بڑی منازل طے کرنے والی ہیں۔یہ جو انہوں نے بتایا ہے، یہ تو پسماندہ قوم کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے غذا ہے تا کہ وہ زندہ رہے اور زندگی کے سانس لیتی رہے۔پس ان کے اندر میں نے جو سچائی دیکھی ہے اور ان کی مظلومیت کی جو بڑی لمبی داستان ہے، اس کے نتیجہ میں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس قوم کا حق ہے کہ اسے ہدایت نصیب ہو۔چنانچہ جب میں نے ان 741