تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 740 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 740

اقتباس از خطاب فرمودہ 30اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہاں بڑے بڑے مذہبی لوگوں کی ایک جماعت ہے، اس میں معروف لوگ ہیں۔لیکن وہ باطنی ہیں، وہ خود بھی لوگوں کی نظروں سے چھپے ہوتے ہیں اور ویسے بھی ان کا صوفیانہ مزاج ہے۔جب تک ان میں آپ داخل نہیں ہوتے ، ہماری قوم میں داخل نہیں ہو سکتے۔میں نے کہا: ان کے پتہ جات؟ اس نے کہا: میں دیتا ہوں اور آپ کا تعارف بھی کرواتا ہوں۔میں نے کہا: تم تو کہتے تھے کہ وہ کسی غیر سے بات نہیں کرتے ؟ تو اس نے کہا کہ اگر آپ جائیں تو میرا اندازہ ہے کہ آپ کے ساتھ کھل کر بات کریں گے کیونکہ میں بھی باتوں باتوں میں آپ سے کھل گیا ہوں۔پھر اس نے کہا کہ ہم بے وقوف قوم نہیں ہیں، ہم بڑی گہری فراست رکھتے ہیں۔دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہمیں اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ کس قسم کا آدمی ہے۔اگر ہمارے مزاج کا آدمی مل جائے گا تو ہم نے کوئی ایسی قسم نہیں کھائی ہوئی کہ ہم نے کسی کو کوئی بات بتانی ہی نہیں۔ہم اپنے ہم مزاج اور ہم رنگ لوگوں کے ساتھ کھل کر بات کرتے ہیں۔میں نے کہا: پھر میں تو جارہا ہوں ، ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب ہیں، ان سے تعارف کروائیں۔چنانچہ انہوں نے وعدہ کیا کہ ہاں میں ان کی مدد کروں گا اور ان کا اپنے بڑوں سے تعارف کرواؤں گا۔میں نے ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب کو کہا کہ آپ ان سے کوئی بات تکلف سے نہ کریں۔سیدھی سادھی سچائی کا پیغام دیں، اللہ کی محبت کی بات کریں۔ہمیں اور کچھ چاہتے ہی نہیں۔صرف یہی ایک بات کریں۔کیونکہ یہ روح سے نکل کر روح میں ڈوب جاتی ہے اور اس کے رستے میں کوئی روک نہیں ہوتی۔دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں ، جو اس کی راہ میں حائل ہو سکے۔اگر کشش ثقل کی راہ میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی تو محبت الہی کی راہ میں کیا چیز حائل ہوسکتی ہے؟ کشش ثقل ایک ایسی طاقت ہے کہ اس کی راہ میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی۔اور کشش ثقل دنیوی قانون کی صورت میں محبت الہی کا ایک مظہر ہے۔اس لئے کہ مذہب کے دائرہ میں محبت الہی ایک عظیم الشان طاقت ہے، جس کے رستے میں کوئی روک نہیں ہے۔اس لئے میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ نے خالصہ اللہ کی محبت کی بات کرنی ہے اور سادہ رہنا ہے، ان سے کوئی لمبی چوڑی تقریریں نہیں کرنیں۔شروع میں بس ان سے مل لیں، اپنا تعارف کروائیں کہ آپ کون ہیں ؟ پھر وہ آپ کو پہچانے لگ جائیں گے تو کھل کر باتیں بھی کریں گے۔وہاں تبلیغ کا جو نیا رستہ نکلا ہے، اس کے متعلق ایک تو احباب یہ دعا کریں کہ جن احمدی دوستوں کو میں یہ نصیحت کر کے آیا ہوں کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھائیں، ان کو بھی خدا تو فیق عطا فرمائے ، وقت کی قربانی کا جذبہ عطا فرمائے ، ان کی باتوں میں اثر پیدا کر دے، ان کو وہ ملکہ عطا ہو اور ان کے منہ سے وہ باتیں نکلیں ، جو اثر کئے بغیر نہ رہ سکیں۔740