تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 64

ارشادات فرموده دوران دورہ یورپ 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک اس سوال پر کہ ناروے اور اہل ناروے کے متعلق آپ کے کیا تاثرات ہیں؟ حضور نے فرمایا:۔مجھے ناروے کا ایک وسیع علاقہ دیکھنے کا موقع ملا ہے۔میں عینی مشاہدہ کی بناء پر کہ سکتا ہوں کہ ناروے دنیا کے خوبصورت ترین ممالک میں سے ایک ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے اسے قدرتی حسن سے مالا مال کرنے میں بہت فیاضی سے کام لیا ہے۔قدرتی حسن کے ہر منظر میں مجھے اللہ تعالیٰ کی غیر محدود قدرتوں کے بڑے ہی حسین جلوے نظر آئے اور میں خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد کرتا رہا۔ہر دلکش منظر مجھے خدا کی طرف لے گیا اور میں اس کے حضور سجدات شکر بجالا یا۔لیکن اہل ناروے کی حالت دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا ہے۔وہ اس سطحی حسن پر تو جس سے ان کی سرزمین مالا مال ہے، سو جان سے فدا ہیں، لیکن اس ذات بے ہمتا سے، جو ہر حسن کا سر چشمہ ہے ، سراسر غافل ہیں۔اور اس سے دور سے دور تر ہوتے جارہے ہیں۔مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ اہل ناروے اللہ تعالیٰ کی عطائے بے حساب پر ناشکری کے مرتکب ہو کر اپنے آپ کو اپنے پیدا کرنے والے کی نگاہ میں مجرم بنارہے ہیں۔ایک سوال یہ بھی ہوا کہ یورپ کے ملکوں نے تو ویلفیئر سٹیٹ کی شکل میں اپنے عوام کی معاشی ضروریات پوری کرنے میں بہت کچھ کیا ہے۔اسلامی معاشی نظام کی رو سے اس بارہ میں آپ کے کیا نظریات ہیں اور اس میدان میں آپ کی جماعت کیا کر رہی ہے؟ حضور نے فرمایا:۔ہر قوم کا معاشرتی ڈھانچہ (Social setup) اس کے معاشرتی فلسفہ ( Social philosophy) پر مبنی ہوتا ہے۔اسلام کا اپنا ایک معاشرتی فلسفہ ہے۔جس میں جسم اور روح دونوں کی ضروریات کو یکساں اہمیت دی گئی ہے۔اس کی تفصیلات بیان کرنے کے لئے کافی وقت درکار ہوگا۔سر دست میں ان تفصیلات کو چھوڑتے ہوئے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ویلفیئر سٹیسٹ کا نظریہ جسمانی ضروریات تک محدود ہوتے ہوئے ، ہمہ گیر نہیں ہے۔ہر چند کہ جماعت احمد یہ تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔تاہم اول تو یہ خالصتہ ایک مذہبی جماعت ہے، دوسرے کہیں بھی اسے یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ اسلام کی سوشل فلاسفی کو پوری جامعیت کے ساتھ نافذ کر سکے۔اس لئے اس میدان میں اس کی کوششیں خدمت انسانیت تک محدود ہیں۔ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم اپنے محدود وسائل کے مطابق لوگوں کی معاشی مشکلات اس رنگ میں دور کریں کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور انسانی شرف پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔کیونکہ اسلام نے عزت نفس اور انسانی شرف پر بہت زور دیا ہے۔ہم حتی المقدور خدمت کرتے وقت انسان انسان میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔64