تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 625 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 625

خطاب فرموده 10 اکتوبر 1983ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک دیکھیں، کس طرح خدا کی محبت آپ کو شہروں کی رونقوں سے ہٹا کر غاروں میں لے گئی۔آپ نے غار حرا میں چھپ کر اپنے رب کو یاد کرنا شروع کیا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو غار کے اندھیروں میں نہیں رہنے دیا بلکہ اس سے نکالا اور رفعتوں پر رفعتیں عطا کیں۔یہاں تک کہ نبیوں میں سے سب بلند مقام عطا کیا، جو سورج اور چاند سے کہیں زیادہ بڑھ کر روشن تھا۔اور آج ساری دنیا کے روحانی آسمان کے آپ سورج۔کہلاتے ہیں۔اور یہ نام آپ کو خدا نے قرآن کریم میں عطا فرمایا ہے۔چنانچہ اس زمانہ کے انسان کو یہ یقین دلانے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت جس طرح گذشتہ زمانوں میں حیرت انگیز کرشمے دکھاتی تھی، اس زمانے میں بھی وہ حیرت انگیز کرشمے دکھا سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا۔آپ نے بھی خدا تعالیٰ کی محبت کی خاطر شہرت کو چھوڑا اور گمنامی اختیار کی۔اپنے خاندان کی عزتوں کو ترک کیا اور مسجد کے گوشوں میں جا چھپے اور اپنے رب کی یاد میں محو ہو گئے۔آپ کا خاندان علاقے کا ایک معزز خاندان تھا۔جن کے نزدیک مولوی بننا، ایک ذلت کی بات تھی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے والد سخت پریشان اور شرمندہ تھے کہ میرے بیٹے کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ خاندانی عزت کے رستے چھوڑ کر دین کے گمنام رستے پر چل پڑا ہے۔چنانچہ جب بھی ان سے کوئی پوچھا کرتا تھا کہ آپ کا بٹیا کہاں ہے؟ تو وہ شرمندگی کے ساتھ اور غصے کے اظہار کے طور پر یہ کہتے تھے کہ جاؤ ، مسجد میں دیکھو کسی صف میں لپٹا ہوا ہوگا۔لیکن خدا تعالیٰ نے پھر وہی سلوک فرمایا، خدا کی محبت نے ایک بار پھر وہی کرشمہ دکھایا، گمنامی کے گوشے سے نکال کر آج آپ کی تبلیغ کوزمین کے کناروں تک پہنچا دیا ہے۔چنانچہ اس عشق اور محبت کے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔میں تھا غریب و بے کس و گمنام و بے ہنر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیان کدھر لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی میرے وجود کی بھی کسی کو بھی خبر نہ تھی اب دیکھتے ہو کیسا رجوع جہاں ہوا ایک مرجع خواص یہی قادیان ہوا پس یہ محبت ہی ہے، جو یہ مجزے دکھاتی ہے۔اسی محبت نے قادیان کی گمنام بستی کو آج سارے عالم میں شہرت بخشی ہے۔اور دنیا کا کوئی کو نہ نہیں، جہاں قادیان کا نام نہ پہنچ گیا ہو۔پس آج اگر اس چھوٹی سی بستی 625