تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 610 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 610

خطاب فرمودہ 05 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ایک عمومی تعلیم کے طور پر بھی قبول نہیں کر سکتا۔مثلاً یہودیت کہتی ہے کہ یعقوب کی اولاد ہی خدا کو پیاری ہے، باقی سب اس کی غلامی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔اخبار باب 25 آیت 45,46) اب اگر اس مذہب کی حکومت ہو تو یقینا اس ظلم کے نتیجہ میں ظلم ہی پیدا ہو گا۔پھر یہودیت صدقہ و خیرات کے بارہ میں کہتی ہے کہ صدقہ وخیرات صرف اپنے ہی ہم قوموں کے لئے ہیں۔اب اگر کوئی یهودی بادشاہ ہو تو اس تعلیم کے ماتحت سارے ٹیکس یہود کو ہی ملیں گے، غیر یہودی کا کوئی حق نہیں۔اسی طرح ہندو مذہب میں بھی عدل و انصاف کا جومحدود تصور ملتا ہے، کسی قدیم زمانہ میں تو وقتی مصالح کے پیش نظر اس کا اطلاق شائد جائزہ قرار دیا جا سکے مگر ایک عمومی اور دائمی تعلیم کے طور پر انسان اسے کبھی قبول نہیں کر سکتا۔مثلاً یہ حکم ہے کہ اگر براہمن نے ایک پیج سے قرض لیا ہو لیکن وہ ادا نہیں کر سکتا تو شودر کا فرض ہے کہ وہ برہمن سے کوئی روپیہ نہ لے۔لیکن اگر شودر نے برہمن کا روپیہ دینا ہو اور شودر غریب ہو تو اونچی ذات والوں کی مزدوری کر کے برہمن کے قرض کو ادا کرے گا“۔وو منوادھیائے 10 شلوک 35) پھر یہودیت میں بھی دشمنوں کے ساتھ تو انصاف کا کوئی تصور نظر ہی نہیں آتا بلکہ لکھا ہے:۔جب کہ خداوند تیرا خدا انہیں تیرے حوالے کرے تو انہیں مار یو۔نہ تو ان سے کوئی عہد کیجو کیا ورنہ ان پر رحم کیجئے۔(استثناء 6/7) اس کے مقابل پر اسلام کی عدل و انصاف کی تعلیم کے چند نمونے اب ہم پیش کرتے ہیں، جو زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہے۔قرآن کریم یہ ہدایت دیتا ہے کہ 1۔اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔(النساء: 59) 2 تمہاری ہر ایک گواہی خدا کی رضا اور انصاف کے قیام کے لئے ہو۔خواہ تمہاری گواہی سے خود تمہیں یا تمہارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کو نقصان پہنچتا ہو۔610 (النساء : 136)