تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 600 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 600

خطاب فرمودہ 05اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم ہے۔اتحاد اقوام کی طرف دنیا کا سفر تیز سے تیز تر ہوا چلا جارہا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں مختلف ممالک کی فیڈریشنز لیگ آف نیشنز، یو این او کا قیام اور مذہبی دنیا میں ورلڈ کانفرنس آف ریلیچنز اس کی چند مثالیں ہیں، جو انسان کے وحدت اقوام کے اس طویل سفر میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔پس وہ چیز جس کی ضرورت آج کا ترقی یافتہ انسان محسوس کرتا ہے، قرآن شریف نے آج سے چودہ سو سال قبل بطور پیج کے اپنی تعلیم میں شامل کر دی تھی۔اور آج تو ذرائع رسل و رسائل اور نظام مواصلات کے ذریعہ وحدت اقوام کی طرف قوموں کا سفر زیادہ برق رفتاری سے جاری ہے۔لیکن اس جگہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں اور وقت اس حقیقت کو ثابت کرے گا کہ اس سفر میں آخری منزل اسلام ہے۔جو ابتداء سے بھی عالمگیر ہونے کا مدعی ہے۔اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سب مذاہب کے بانی خدا کی طرف سے تھے تو پھر مختلف مذاہب کی تعلیم میں اختلاف کی وجہ کیا ہے؟ کیا ایک خدا مختلف تعلیمیں دے سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب سوائے اسلام کے اور کوئی دوسران ہب پیش نہیں کرتا۔اور یہ امتیاز بھی اسلام کی شریعت کو حاصل ہے۔اسلام اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ بنیادی طور پر اختلاف مذہب کی دو وجوہ ہیں۔اول: یہ کہ مختلف حالات میں مختلف تعلیم کی ضرورت تھی۔اس لئے اس حکیم و خبیر ہستی نے اس انسانی ضرورت کا لحاظ رکھتے ہوئے مختلف زمانوں اور قوموں اور ملکوں کی ضروریات کے مطابق تعلیم دی۔مذہب میں اختلاف کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ مرور زمانہ سے سابقہ مذاہب کی تعلیم محفوظ نہ رہی۔لوگ حالات اور ضروریات کے مطابق ان میں خود تبدیلی کرتے رہے۔اور وہ الہامی کتب اس شکل میں نہ رہیں ، جس میں وہ نازل ہوئی تھیں۔تب بھی تعلیم کی ضرورت پیش آئی۔ایک اور محرک سابقہ تعلیموں کے محفوظ نہ رہنے کا یہ بھی ہوا کہ جوں جوں زمانہ نبوت سے دوری ہوتی گئی ، شریعت کی سختی کے رد عمل کے طور پر مذہب کے آزادی کے تصور اور خواہشات نفسانی کی غلامی نے مذہبی تعلیمات پر تحریف کے ایسے نشتر چلائے ، جو بعد میں آنے والے بچے مذاہب کے لئے اختلافات کا ناسور بن گئے۔گردش زمانہ سے پھر ایک حصہ تعلیمات کا نسیان کی نذر بھی ہو گیا اور اس طرح وہ کتب محفوظ نہ رہیں۔جیسا کہ فرماتا ہے:۔يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ وَنَسُوا حَظَّا مِمَّاذُ كِرُوا بِهِ (المائدة: 14) 600