تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 599
تحریک جدید - ایک الہی تحریک وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ خطاب فرمودہ 05 اکتوبر 1983ء (الرعد : 8) کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں، جس میں نبی نہ آئے ہوں۔بلکہ ہر قوم اور زمانہ میں کوئی نہ کوئی ہادی ضرور آیا ہے۔اس عظیم الشان اعلان سے عالمی کیریکٹر ظاہر ہو گیا۔پس اسلام ہی ہے، جو انسان اور مذہب کی عالمی حیثیت کو تسلیم کرتا ہے۔اور یہ امر جہاں اسلام کے عالمگیر ہونے کا ہے، وہاں اسلام کی عظیم برتری دوسرے مذاہب کے مقابل پر ظاہر کرتا ہے۔پھر اس مضمون کا دوسرا رخ اسلام کی ایک اور امتیازی خوبی ظاہر کر کے اس کا عالمگیر ہونا ثابت کرتا ہے۔فی الحقیقت عالمگیر مذہب کا دعوی کرنے کے لئے صرف یہ کافی نہیں کہ دوسرے مذاہب میں کسی ہادی یار ہنما کا آنامان لیا جائے۔بلکہ جب تک دوسرے مذاہب کے بانیوں کو تسلیم نہ کیا جائے عالمگیر ہونے کا دعوی کیا ہی نہ جا سکتا۔یہ خوبی بھی کسی دوسرے مذہب میں نظر نہیں آتی۔اسلام کو یہ فخر حاصل ہے۔کہ وہ دوسرے تمام مذاہب کے بانیوں اور پیشواؤں کو (جو اپنے وقت میں بچے تھے مانتا اور قبول کرتا ہے۔قرآن شریف کو بار بار دوسری کتابوں کا مصدق کہا گیا ہے۔اور مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جس طرح اپنے نبی کا مانا ان پر فرض ہے، دوسری قوموں کے نبیوں اور رسولوں پر ایمان لانا بھی فرض ہے۔اور ایمان کے لحاظ سے کسی رسول میں کوئی تفریق جائز نہیں کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ ما نہیں۔فرماتا ہے:۔امَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلَكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ (البقرة : 286 ، نیز 05) اس لئے ہر مسلمان انبیاء کی معروف تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ( یا کم و بیش ) پر صدق دل سے ایمان لاتا ہے۔پس بلا تمیز رنگ و نسل اور بلالحاظ زمانہ و قوم تمام امتوں کے رسولوں کو سچا تسلیم کرنے اور ان کی تکریم کا اصول ہی قوموں میں صلح کی صحیح بنیاد اور مذاہب میں اتحاد کی منفرد راہ ہے۔اور یہ جہاں عالمگیریت کے دعوئی کا ایک بڑا تقاضا ہے، وہاں اسلام کی عالمگیریت کی بین دلیل ہے۔یہاں اس سوال کا جواب خالی از دلچسپی نہ ہوگا کہ عالمگیریت میں اپنی ذات میں کیا خوبی ہے؟ اور اسلام اس پر کیوں زور دیتا ہے؟ سویا درکھنا چاہیے کہ جب سے اسلام وحدت اقوام کا پیغام لے کر آیا 599