تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 51
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطبہ جمعہ فرموده 10 ستمبر 1982ء کو ساتھ نہ ملالیں، ایک آرڈر نہ پیدا ہو جائے نظام کے اندر، سارے دوست دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ مالی قربانیوں کے کم سے کم معیار پر پورے نہ اتر آئیں، اگر ہم آگے بڑھیں گے تو وہی چند لوگ، جو السابقون الاولون ہیں، وہی قربانیوں کا بوجھ اٹھاتے چلے جائیں گے۔اور لوگوں کو پتہ بھی نہیں لگے گا کہ یہ چند آدمی ہیں صرف، ساری جماعت نہیں ہے۔تو یہ دعا بھی کرنی چاہئے ، اپنے ان بھائیوں کے لئے اللہ تعالیٰ ان کو سمجھ دے، عقل دے، قربانیوں کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔ہماری باتوں میں تو کوئی اثر نہیں۔جب تک خدا دلوں کو نہ بدلے، کوئی نہیں بدل سکتا۔تو ان کے لئے دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں۔جہاں تک اس مسجد کی آبادی کا تعلق ہے، اب میں آخری بات آپ سے یہ کہنی چاہتا ہوں کہ جب سے میں بین آیا ہوں ، دل کی ایک عجیب کیفیت ہے۔خوشیاں تو بہت ہیں مگر جیسا کہ میں نے کہا تھا، یہ خوشیاں غم میں ڈھلی ہوئی خوشیاں ہیں۔یہ عجیب و غریب بات ہے، آنکھوں سے بہنے والی خوشیاں ہیں۔میں سوچتا ہوں کہ مسجد تو ہم بنائیں گے، اس کی آبادی کیسے ہوگی؟ اتنی مدت ہو گئی پین میں کام کرتے ہوئے ، احمدی بھی ہوئے لیکن ابھی تک ہم اتنی تعداد میں احمدی نہیں بنا سکے کہ ایک احمد یہ جماعت اتنی مضبوط اور تعداد میں اتنی کثیر پیدا ہو جائے کہ وہ اپنے معاشرے کی حفاظت کر سکے۔معاشرے کی حفاظت کے لئے ایک معقول تعداد کا ہونا ضروری ہے۔ورنہ اکیلا اکیلا احمدی اگر ہو تو وہ ماحول میں واپس جذب ہو جایا کرتا ہے۔یہ قانون قدرت ہے، جس کو آپ تو ڑ نہیں سکتے۔اس لئے رفتار کا اتنا بڑھنا ضروری ہے کہ کم سے کم ضروری تعداد مہیا ہو جائے، جو اقدار کی حفاظت کرتی ہے۔اور اس تعداد کی بناء پر آگے بڑھنے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔انقلاب پیدا کرنے کے لئے بھی ایک کم سے کم مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ تو دنیا کے ہر آدمی کو پتہ ہے کہ ایٹم بم کو پھاڑنے کے لئے بھی کم سے کم ایک وزن کی ضرورت ہے۔اس سے کم ہو تو وہ طاقت ضائع ہوتی چلی جاتی ہے۔اور وہ Chain Reaction پیدا نہیں ہوسکتا۔اس لئے اس Chain Reaction کے لئے جتنی تعداد میں احمدیوں کی ضرورت ہے، وہ ابھی تک ہمیں مہیا نہیں ہو سکے۔کیسے مہیا ہوگی؟ اتنا شرک ہے، اتنا ماحول پر دنیا کا اثر ہے، دہریت گھر گھر میں داخل ہورہی ہے، سیاسی تو جہات نے عقلوں کو اور ذہنوں کو غلط سمتوں میں مائل کیا ہوا ہے، معاشرے کی آزادیاں، دنیا کی لذتیں، یہ سارے بت چاروں طرف سے ان سوسائٹیوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔تو بہت فکر پیدا ہوتی ہے کہ اے خدا! اس مسجد کی آبادی کا تو انتظام کر۔میں تو یہی دعا کرتا رہا ہوں۔جہاں بھی گیا ہوں، دیکھ کر ایسی 51