تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 50
خطبہ جمعہ فرموده 10 ستمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک قرآن کریم فرماتا ہے کہ اللہ تو غنی ہے۔اسی نے تمہیں سب کچھ دیا۔تم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے تو اس نے تمہارے لئے سارے انتظام کر دیئے تھے۔ساری کائنات کا مالک ہے، اس کے خزائن کبھی ختم نہیں ہوتے۔اس کی رحمتوں اور برکتوں کے طفیل انسان رزق پاتا ہے اور رزق سے برکتیں حاصل کر سکتا ہے۔ورنہ ایسے رزق والے بھی ہم نے دیکھتے ہیں کہ دلوں میں جہنم لئے پھرتے ہیں۔کوئی رزق ان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اس خدا سے تعلق جوڑنے کے بعد پھر منہ موڑنا، یہ کہاں کی عقل ہے۔یہ تو خود کشی ہے۔اس لئے محبت اور پیار سے سمجھائیں۔میں نے تو بار ہا یہ اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی شخص اتنا نہیں دے سکتا، جو شرح کے مطابق ضروری ہے تو صاف کہے۔اپنے حالات پیش کرے۔چندہ عام ہے، وہ خلیفہ وقت معاف کر سکتا ہے۔اور میں کھلا وعدہ کرتا ہوں کہ جود یا نتداری سے سمجھتا ہے کہ میں نہیں پورا اتر سکتا، میری شرح کم کر دی جائے، اس کی شرح کم کر دی جائے گی۔لیکن جھوٹ نہ بولیں خدا سے۔یہ نہ ہو کہ خدا کروڑ دے رہا ہو اور آپ لاکھ کے اوپر چندے دے رہے ہوں۔اور بتا یہ رہے ہوں کہ دیا ہی خدا نے لاکھ ہے۔اللہ کوئی بھول جاتا ہے (نعوذ بالله من ذلک ) کہ میں نے اس کو کیا دیا تھا اور اب یہ مجھے کیا واپس کر رہا ہے؟ جس نے دیا ہے، وہ تو دلوں کے بھیدوں سے آشنا ہے، وہ مخفی ارادوں سے آشنا ہے، وہ ان بنک بیلنسز سے آگاہ ہے، جن میں روپے جاتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں۔اور تسلی نہیں پاتا انسان اور بڑھانا چاہتا ہے۔تو جو ضرورت مند ہے، اس کی ضرورتوں کی فکر کی جائے گی، اس کی ضرورت کا لحاظ کیا جائے گا۔اس کو خوشی سے اجازت دی جائے گی۔بلکہ ایسا ضرورت مند احمدی جو چندہ نہیں دے سکتا، امداد کا مستحق ہے، جماعت کا کام ہے، جہاں تک ممکن ہو، اس کی امداد کرے۔لیکن خدا سے جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اس لئے ایک مہلت میں دیتا ہوں، اس خیال سے کہ ہمارے بھائی ضائع نہ ہوں۔مجھے اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ خدا کے کام کیسے پورے ہوں گے؟ اگر میں یہ فکر کروں تو مشرک بن جاؤں گا۔مجھے اس بات کی ہر گز فکر نہیں ہے کہ اگر کوئی احمدی ضائع ہو گئے تو ان کی جگہ اور کیسے ملیں گے؟ ایک جائے گا تو خدا ہزاروں، لاکھوں دے سکتا ہے، اس کے بدلے اور دے گا۔مجھے فکر یہ ہے کہ ایک بھی احمدی ضائع کیوں ہو؟ کیوں ہمارا بھائی ایک اچھے رستہ پر چل کر بھٹک جائے اور ہم سے ضائع ہو جائے ؟ تو مجھے ان کی ذات کا غم ہے۔اپنی جماعت کا غم تو کوئی نہیں۔جماعت کا غم تو میرا خدا کرے گا اور وہی ہمیشہ کرتا چلا آیا ہے۔جماعت کی ضرورتیں وہی پوری کرتا ہے اور وہی پوری کرے گا۔اس لئے جب تک ایک موقع دے کر ہم اپنے بھائیوں 50