تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 596
خطاب فرمودہ 05 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرُ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (الرعد:08) اس کے برعکس ہم تعجب سے یہ دیکھتے ہیں کہ کسی دوسرے مذاہب کی الہامی کتاب میں کسی دوسری قوم یا سرزمین میں ظاہر ہونے والے مذہب کی صداقت کا اعلان نہیں۔بلکہ اس کے برعکس اس قدر زور ایک محدود دائرہ میں ظاہر ہونے والے مذہب کی سچائی پر دیا جاتا ہے اور ایسی بے اعتنائی دیگر قوموں اور انسانوں سے برتی جاتی ہے کہ گویا خدا بس ایک قوم اور ایک ہی نسل اور ایک ہی مذہب کا ورثہ پانے والوں کا خدا تھا۔اور دیگر کل عالم میں بسنے والے انسانوں سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔مثلاً بائبل صرف بنی اسرائیل کے خدا کو پیش کرتی ہے۔اس میں بار بار ایسا ذ کر ملتا ہے کہ " خداوند اسرائیل کا خدا ابدالآبا د مبارک ہو۔تواریخ 16/36 ، نیز دیکھیں سموئیل 25/32، سلاطین 1/48، تواریخ 6/4 ، زبور 76/18) لیکن اشارہ بھی کسی اور قوم یا خطہ زمین پر پیدا ہونے والے مذہبی مصلحین کی سچائی کی تصدیق نہیں ملتی۔پس یہود کا یہ عقیدہ کہ بنی اسرائیل کے سب نبی صرف اسرائیل کے گھرانے کے لئے آئے تھے۔بائبل کی تعلیم اور منشاء کے عین مطابق ہے۔حضرت مسیح نے بھی اپنے آپ کو صرف بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے مبعوث قرار دیا اور کہا:۔میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیٹروں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔اور اپنے حواریوں کو یہ تعلیم دی کہ وو (15/25621) وہ چیز جو پاک ہے، کتوں کو مت دو اور اپنے موتی سوروں کے آگے مت پھینکو۔(716) اسی طرح ہندو مذہب میں بھی وید کو شض اونچی ذاتوں سے مخصوص کیا گیا ہے۔جیسا کہ لکھا ہے:۔اگر کوئی شودر میں دید سن لے تو راجہ سیسے اور لاکھ سے اس کے کان بھر دے وید منتروں کا اچارن (تلاوت) کرنے پر اس کی زبان کٹوادے اور اگر وید کو پڑلے تو اس کا جسم ہی کاٹ دئے۔( گوتم سمرتی ادھیائے 12 ) 596