تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 587 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 587

تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد ششم خطاب فرمودہ 30 ستمبر 1983ء چاندی کی طشتری میں سجا کر پیش کر دیں گے۔اس بارہ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ دور کے سہانے ڈھول ہیں یا ان کی حیثیت سنہری خوابوں سے زیادہ نہیں ہے۔جہاں تک حقیقت حال کا تعلق ہے، یہ بات تو بہر حال مسلم ہے کہ آج دنیا کے پردہ پر صرف ایک ہی جماعت ہے، جس کا دعویٰ یہ ہے کہ آسمانی نوشتوں میں جس جماعت کے لئے غلبہ اسلام مقدر تھا، وہ یہی جماعت ہے۔اور وہ ساعت سعید آچکی ہے، جو اسلام کے غلبہ نو کی ساعت ہے۔اس مہم کا آغاز ہو چکا ہے، جس نے عالمی انقلاب بر پا کرنا تھا۔اگر یہ جماعت اپنے اس دعوئی میں سچی ہے۔اگر حقیقتا اللہ ہی نے اس غریب اور بے نوا جماعت کو اس آخری انقلاب عظیم کے لئے چن لیا ہے، جس نے بالآخر دنیا کی تقدیر بدل دینی ہے اور مذہبی اور فرقہ ورانہ منافرتوں کا قلع قمع کر کے انسان کو ایک دفعہ پھر اخوت اور محبت اور ایثار اور انکسار کے درس دینے ہیں۔تو یہ جماعت، جس نئے براعظم یا ملک یا قوم میں بھی پہلی مرتبہ اپنے قدم جمائے گی اور روحانی انقلاب کی عظیم ترین مہم کا آغاز کرے گی، بلاشبہ وہ دن اس براعظم یا ملک یا قوم کی تاریخ میں ایک عظیم تاریخی دن ہوگا۔اور وہ ایک ایسا عجیب سنگ میل ہوگا، جو ہم عصر انسان کی نظر سے اوجھل ہونے کے باوجود مستقبل کے انسان کی آنکھ کو بہت بڑا اور نمایاں اور روشن ہو کر دکھائی دے گا۔اور امتدادزمانہ اس کی عظمت کو کم کرنے کی بجائے اس کی عظمت وشان کو بڑھاتا چلا جائے گا۔مادی و مذہبی دنیا کی تاریخ میں یہی تو ایک حیرت انگیز ما بہ الامتیاز ہے کہ دنیاوی قوموں کی عظمت کو گزرتا ہوا وقت دھندلا تا اور مدھم کرتا چلا جاتا ہے۔بڑھتے ہوئے وقت کے فاصلے ان کی حیثیت کو چھوٹا اور خفیف سے خفیف تر دکھانے لگتے ہیں۔لیکن مذہبی قوموں کی عظمت کا حال اس سے برعکس ہے۔وہ واقعہ جو بظاہر اتنا چھوٹا اور اتنا معمولی ہوتا ہے کہ ہم عصر مؤرخ کی آنکھ اس کو دیکھ نہیں سکتی۔آنے والی نسلوں کو وہ بڑا ہو کر دکھائی دینے لگتا ہے۔اور گزرتا ہوا وقت اسے چھوٹا دکھانے کی بجائے بڑھاتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ اس کی عظمت اپنے زمانہ کے ہر دوسرے واقعہ کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس کی روشنی ہر دوسری روشنی کو ماند کر دیتی ہے۔یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے کہ صرف یہی ایک روشنی اپنی چمک دکھلا رہی ہوتی ہے اور ہر دوسری حقیقت مدھم اور بے حقیقت ہو کر بجھتی چلی جاتی ہے۔دیکھو جب مسیحیت کا آغاز ہوا تو نصف کرہ ارض کو رومی سلطنت کی عظمت اور جلال نے ڈھانپ رکھا تھا۔اور واقعہ صلیب اس کے مقابل پر ایسا مد ھم اور بے نور اور بے حقیقت تھا کہ اس واقعہ کے دوران تو در بعد بھی روی تحریری میں کا اشارہ ذکر نہیں ما لکین در کنار 34 سال بعد تک بھی کسی روی تاریخی تحریر یا دستاویز میں اس کا اشارہ بھی اس کا ذکر نہیں ملتا۔لیکن 587