تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 564 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 564

خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک میں کوئی ایسا فعل نہ کروں، میری سوچ کوئی ایسی راہ اختیار نہ کرے کہ جس سے میرا پیارا اور محبوب خدا مجھ سے ناراض ہو جائے ، اس کا نام تقویٰ ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم یہ طرز فکر اختیار کرو گے تو دنیا کے پردہ پر جہاں بھی تم جاؤ گے، یہ طرز فکر تمہاری زندگی کی حفاظت کرے گی، تمہارا لباس بھی بن جائے گی، تمہاری خوراک بھی ہو جائے گی اور پھر تم کسی غیر اللہ کے شر سے خوف کھانے کی فکر میں مبتلا نہیں ہو سکتے کبھی غیر کے شر کے خوف میں مبتلا نہیں ہو سکتے۔کیونکہ خدا کا خوف ہر دوسرے خوف پر غالب آ جاتا ہے تو گویا قرآن کریم کے نزدیک اگر تم چاہتے ہو کہ بے خوف زندگی بسر کرو تو صرف ایک راہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف اختیار کرو، اس کی رضا سے دور جانے سے ڈرو۔اس پہلو پر میں کچھ مزید مختصری روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔منہ سے یہ کہہ دینا کہ تقویٰ خدا کی محبت کا نام ہے، تقویٰ خدا کی محبت کے کھو دینے کے ڈر کا نام ہے، انسان ہر وقت یہ خیال رکھے کہ میں اللہ کی راہ پر قائم رہوں اور خدا مجھ سے ناراض نہ ہو۔یہ منہ سے کہہ دینا بظاہر آسان بات ہے لیکن عملی زندگی میں ہر روز اس قسم کے امتحانات پیش آتے ہیں کہ ہر انسان اگر ہوش کے ساتھ زندہ رہے تو وہ یہ محسوس کر سکتا ہے کہ میرا عقیدہ اور ہے اور میر اعمل اور ہے۔میرا دعویٰ اور ہے اور وہ زندگی ، جو میں نے اختیار کر لی ہے، وہ اور ہے۔ہر روز آپ کے لئے ایسے مواقع پیش آتے ہیں، مردوں کے لئے بھی اور عورتوں کے لئے بھی، جہاں آپ خدا کی محبت کے کھو دینے کی نسبت ان لوگوں کی محبت کے کھو دینے کے خوف سے مغلوب ہو جاتے ہیں، جن میں آپ رہ رہے ہوتے ہیں۔ان ] کے تاثرات جو آپ کے متعلق ہوں گے، وہ آپ کی زندگی کے نقشے بنارہے ہوتے ہیں اور دماغ میں یہ ہوتا ہے کہ خدا کا تصور ہماری زندگی کا نقش بنا رہا ہے۔آپ اپنے ماحول سے ڈرتے ہیں، اپنے ماحول کی باتوں سے خوف کھاتے ہیں، یہ ہمت نہیں پاتے کہ ماحول کے مخالف کوئی طرز زندگی اختیار کر سکیں اور سر اونچا کر کے ان لوگوں میں چل سکیں۔ہمیشہ یہ خوف دامن گیر رہتا ہے، مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی کہ اگر ہم نے یہ کیا تو یہ لوگ کیا کہیں گے؟ ہمارے متعلق کیا سمجھیں گے ؟ اگر ہم نے اسلامی لباس پہنا تو ان کو کیا محسوس ہوگا ؟ اگر یہ لوگ ننگے پھر رہے ہوں اور ہماری عورتوں نے برقعے اوڑھ لئے تو یہ ہمارے متعلق کیا سمجھیں گے کہ کون سی بلائیں آگئی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ پہلا خوف ہے، جو تقویٰ کے مقابل پر انسانی زندگی میں راہ پاتا ہے اور مذہبی معاشروں کو تباہ کر دیا کرتا ہے۔جس طرح ایک تقومی خدا کا خوف ہے، اسی طرح ایک تقویٰ دنیا کا خوف بھی ہوا کرتا ہے۔اور ان دونوں کے درمیان وہ جنگ ہے، جو ہمیشہ جاری رہتی ہے اور ہمیشہ جاری 564